جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)جہلم ویلی کی یونین کونسل نڑدجیاں کے علاقے میں تعمیر کردہ چھم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ جس کی پیداواری گنجائش 3.22 میگاواٹ بتائی گئی تھی ایک سال گزرنے کے باوجود سیاست کی نذر جو کہ مطلوبہ نتائج دینے میں مکمل ناکام ہوگیا ۔۔۔
عوامی سطح پر کئی سوال اٹھنے لگے،اربوں روپوں کی لاگت میں تعمیر ہونے والا چھم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ 3.22 میگاواٹ کا منصوبہ صرف 6 کلو واٹ تک محدود کیوں؟
عوام مایوس،لوڈشیڈنگ کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
عوام کی توقعات تھیں کہ یہ منصوبہ نڑدجیاں،چکہامہ،گوجربانڈی اور چناری سمیت گردونواح کی آبادی کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلائے گا تاہم صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی ہے۔۔..
ذرائع کے مطابق منصوبے کی اصل پیداواری صلاحیت 3220 کلو واٹ تھی لیکن گرمیوں میں پانی کی وافر مقدار ہونے کے باوجود صرف 7 سے 8 کلو واٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی جبکہ اب کمی کا بہانہ بنا کر مزید کمی واقع ہوئی اور پراجیکٹ سے محض 5 سے 6 کلو واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چھم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ سیاست کی نذر،عوام سراپا احتجاج
اندرونی صورتحال مزید تشویشناک
تفصیلات کے مطابق منصوبے میں نصب تین میں سے ایک ٹربائن آج تک چلائی ہی نہیں گئی۔۔۔جبکہ باقی دو ٹربائنز صرف ایک سال میں ہی جواب دے چکی ہیں۔۔۔پراجیکٹ پر تربیت یافتہ انجینئرز اور ٹیکنیکل اسٹاف کی عدم موجودگی بھی کارکردگی کے زوال کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔۔۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ پاور ہاؤس پر تعینات افراد سفارش،تعلق داری اور دباؤ کی بنیاد پر رکھے گئے ہیں جو تکنیکی مہارت کے بغیر تجربات کے نام پر سسٹم مزید برباد کر رہے ہیں۔۔
مزید برآں ایک ٹربائن تاحال سنکرونائز بھی نہیں کی جا سکی جس کی وجہ سے پیداوار کا بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے۔۔۔
پیداواری کمی کے باعث اس وقت صرف یونین کونسل نڑدجیاں کو محدود بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔۔
جبکہ چکہامہ میں ایک گھنٹے بعد محض 20 سے 25 منٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ بھی بار بار تعطل کے ساتھ گوجربانڈی اور چناری کے بیشتر علاقے مسلسل لوڈشیڈنگ کی زد میں ہیں جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔۔۔
اس ساری صورتحال کے بعد عوامی سوالات بھی اٹھ گئے ہیں۔۔ کہ کیا افتتاح ترقی تھا یا دکھاوا؟
علاقائی مکینوں کا کہنا ہے کہ منصوبہ نامکمل ہونے کے باوجود اُس وقت کے وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق سے مکمل اور فعال ظاہر کر کے افتتاح کروایا گیا جس کا مقصد صرف سیاسی نمائش تھا اور اب اس کے نتائج عوام بھگت رہی ہے۔۔۔
عوام علاقہ نڑدجیاں،چکہامہ، گوجربانڈی اور چناری نے مطالبہ کیا ہـے کہ حکومت فوری طور پر
پراجیکٹ کا مکمل تکنیکی آڈٹ کرائے،ناکارہ مشینری تبدیل کی جائے، تمام ٹربائنز کو مکمل فعال کیا جائے،اور قابل انجینئرز و ٹیکنیشن تعینات کیے جائیں۔۔۔
بصورت دیگر خطہ ایک بڑے عوامی احتجاج کے لیے تیار ہے اور ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔۔۔




