امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہائی اسکلڈ ورکرز کے لیے ویزا شرائط مزید سخت کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایچ ون بی ویزا کے درخواست گزاروں کے معیار اور پروفائلز کی مکمل جانچ پڑتال کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتکاروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایچ ون بی ویزا کے تمام درخواست گزاروں کے پروفائلز کا تفصیلی جائزہ لیں۔ اس جائزے میں درخواست گزاروں اور ان کے ساتھ سفر کرنے والوں کے ریزیومے یا لنکڈان (LinkedIn) پروفائل شامل ہوں گے۔ اس دوران اگر کسی درخواست گزار کے پروفائل میں سنسرشپ یا کسی ممنوعہ مواد میں ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو وہ ایچ ون بی ویزے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے 7 جہازوں کا 61 مرتبہ ذکر کرکے مودی کی آتما رول دی،خواجہ آصف
امریکی محکمہ خارجہ نے دو دسمبر کو تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہدایات ارسال کیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایچ ون بی ویزا کی درخواستیں درست اور شفاف معیار کے مطابق پرکھی جائیں۔ ایچ ون بی ویزے خصوصاً ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ کمپنیاں زیادہ تر بھارت، چین اور دیگر ممالک سے ہائی اسکلڈ ورکرز کو بھرتی کرتی ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر کی حمایت کرنے والی کچھ ٹیک کمپنیوں کی قیادت نے ایچ ون بی ویزا کے ذریعے بیرون ملک سے ماہر ملازمین بھرتی کیے ہیں۔ ویزا کے یہ نئے سخت معیار نہ صرف درخواست گزاروں کے پیشہ ورانہ معیار کی جانچ کرے گا بلکہ امریکی کمپنیوں کے لیے بھرتی کے عمل کو بھی مزید شفاف بنانے کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: 19ممالک کے تارکینِ وطن کی امیگریشن درخواستیں معطل
ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھرتیوں کے عمل پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کو اپنے پروفائلز اور تجربات کی مکمل درستگی یقینی بنانے کی ضرورت ہوگی۔




