بیرون ملک جانیوالوں کیلئے خوشخبری، فوری امیگریشن کیلئے آفس قائم

لاہور:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بیرون ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کیلئے خصوصی امیگریشن انفارمیشن آفس قائم کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے زونل آفس لاہور میں بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلئے خصوصی امیگریشن انفارمیشن آفس قائم کیا گیا ہے جہاں سے شہریوں کو تمام رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

ایف آئی اے کی جانب سے دفتر میں عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے جو بیرون ملک جانے والے مسافروں کو امیگریشن قوانین، سفری تقاضوں اور دستاویزات کی تصدیق سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملازمت کا جھانسا دے کر بیرون ملک بھجوانے والوں سے رعایت نہیں ہوگی: محسن نقوی

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق معلوماتی آفس عوامی سہولت اور سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا جبکہ اس کے ذریعے شہریوں اور امیگریشن ڈیسک کے درمیان رابطے بھی بہتر ہوں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خصوصی دفتر قیام کا مقصد سفر سے قبل معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ شہری امیگریشن سے متعلق معلومات کے لیے 04299203690 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ان دنوں ایئرپورٹس سے بیرونِ ملک جانے والے مسافروں کی آف لوڈنگ کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسے کئی مسافروں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جنہیں مبینہ طور پر ملک کے مختلف ایئرپورٹس، بالخصوص اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مختلف وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیا گیا ہے۔

اسی تناظر میں جعلی ایجنٹوں اور ان کی خدمات حاصل کرنے والے افراد کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پاکستانی سب سے زیادہ کن ممالک میں مقیم ہیں؟

متعدد پاکستانی مختلف ملکوں سے ڈیپورٹ کیے گئے، جبکہ کئی ممالک نے یہ شکایات بھی کی ہیں کہ پاکستانی شہری یا تو غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک داخل ہو رہے ہیں یا وہاں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

ایسے معاملات میں اضافہ حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے ایئرپورٹس پر بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی جانچ اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل مزید سخت کر دیا ہے۔

تاہم گزشتہ چند دنوں سے ایسی ویڈیوز اور شکایات سامنے آ رہی ہیں جن میں شہریوں کو بڑی تعداد میں بیرونِ ملک جانے سے روکنے اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر آف لوڈ کیے جانے کا ذکر ہے، جبکہ بعض کیسز میں شہریوں کو لاکھوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

Scroll to Top