راولاکوٹ ( بیورو رپورٹ) پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی راولاکوٹ کا مالی بحران تا حال ختم نہ ہو سکا۔
عرصہ آٹھ ماہ سے پی ڈی اے ملازمین نے اپنی تنخواہ اور پینشن کے معاملات پر ہڑتال کر رکھی ہے۔
ہڑتال کے دوران بذریعہ حکومتی نوٹیفکیشن 43 ملازمین کو ادارہ کی رائیٹ سائزنگ کرتے ہوئے 22 اگست 2025 سے فارغ کر دیا
پی ڈی اے ملازمین نے رضا مندی مشروط دی ہوئی تھی کہ ان کو رقم کی ادائیگی کر کے ہی فارغ کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی ہائی کمشنر وفد کے ہمراہ راولاکوٹ پہنچ گئے، شاندار استقبال ،تحائف پیش
گولڈن ہینڈ شیک پالیسی کے تحت یہ ملازمین اور حکومت کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے۔ اگر اس معاہدہ میں لکھا ہوا تھا کہ واجبات کی ادائیگی کر کے ملازمین کو فارغ کیا جائے گا تو اس معاہدہ کی خلاف ورزی حکومت نے کی ہے۔
22 اگست 2025 سے 43 ملازمین پی ڈی اے دفتر کے سامنے ہڑتال پر ہیں۔ عرصہ تین ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود سابقہ بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کی گئی اور نہ ہی گولڈن ہینڈ شیک نوٹیفکیشن میں تسلیم شدہ رقم کی ادائیگی کی گئی۔
جملہ ملازمین پی ڈی اے نے اپنے ہڑتالی کیمپ میں میٹنگ کے بعد چیئرمین پی ڈی اے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 5 دسمبر سے پہلے معاملہ یکسو کریں اور ادائیگی کریں۔
بصورت دیگر ملازمین وزیراعظم کے دورہ راولاکوٹ کے دوران اس معاملہ میں تین ماہ سےملازمین کو ذہنی کوفت اور مالی طور پر بری طرح مفلوج ہیں ۔
ملازمین ملوث افراد کیخلاف حکام بالا کو تحریری شکایت دائر کریں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی تحریک کریں گے ۔
اجلاس سے سردار داؤد خان ، سردار اجمل برکت ، محمد زرین خان ، فیاض خان ، فیاض نقی ، تنویر صابر اور ادریس خان نے خطاب کیا ۔




