کشمیریوں کے گھروں کی مسماری میری حکومت بدنام کرنے کی کوشش ہے،عمر عبداللہ

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے علاقے میں جاری گھروں کی مسماری مہم پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے یہ ایک منتخب حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے یہ بات لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ کی طرف سے جموں خطے کے علاقے ناروال میں صحافی ارفاز احمد کے گھر کو مسمار کرنے پر اپنے ردعمل میں کہی۔

عمر عبداللہ نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ اسٹاف اور ریونیو اہلکاروں کو ان کی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر مسمار ی مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وزراکی منظوری کے بغیر بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیپال نے100روپے کے نئے نوٹ نے بھارت میں کھلبلی مچادی

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مسمارگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی سے انکی حکومت کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا اور یہ ایک منتخب حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش ہے، یہ ساری مشق ایک سازش ہے۔

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انتظامی افسر ہماری مرضی کے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔ ریونیو اور فیلڈ سٹاف کو منتخب حکومت کے تحت کام کرنا چاہیے، لیکن ہمیں اعتماد میں لیے بغیر بلڈوزر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے انہدامی مہم کی نوعیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ ایک خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: پولیس اسٹیشن میں دھماکا، 7 افراد جاں بحق، 27 زخمی

انہوں نے کہا کہ کیا جموں میں صرف ایک ہی جگہ تھی جو غیر قانونی تھی؟ صرف ایک شخص کو کیوں ہدف بنایا گیا؟ کیا مذہب اس کی وجہ تھا، اس طرح سے نشانہ بنانا بلاجواز ہے اور سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

یاد رہے کہ نئی دہلی دھماکے کے بعد کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے اور سیکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کئی کشمیریوں کے گھر مسمار کئے گئے ہیں ،حتی کہ ایک بزرگ نے تذلیل پر تنگ آکر خودکشی کی۔

Scroll to Top