ہائیکورٹ آزادکشمیر، راولاکوٹ میں تجاوزات کیخلاف دائرپٹیشن سماعت کیلئے منظور،نوٹسز جاری

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے راولا کوٹ میں نالوں، قدرتی آبی گزرگاہوں اور گرین بیلٹس پر ہونے والی مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کیخلاف دائر مفادِ عامہ کی پٹیشن باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلی ۔

ہائیکورٹ آزادکشمیر نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کو نوٹس جاری کرکے 10 دسمبر 2025 تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔

درخواست گزاروں کی جانب سے عبدالصمد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 18 اگست 2025 کی تباہ کن بارشوں اور سیلاب کے دوران PDA ہاؤسنگ اسکیم سمیت پورے شہر میں بند نالوں، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات نے تباہی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ شدید بارش کے دوران ایک یونیورسٹی کی پروفیسر پانی کے بہاؤ میں پھنس کر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ درجنوں اسکول کے بچے کلاس رومز اور عمارتوں میں پھنس گئے تھے جنہیں بعد ازاں مقامی افراد اور ریسکیو اداروں نے نکالا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سردیوں کی تعطیلات: 8 دسمبر سے 4 جنوری تک سکول بند رکھنے کا اعلان

پٹیشن کے مطابق اس سانحے کے باوجود انتظامیہ نے فقط کاغذی کارروائی اور نمائشی اقدامات کیے، جبکہ نالوں کے اوپر قائم رہائشی و تجارتی عمارتیں، پلرز، شیڈز اور کنکریٹ کور آج بھی شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ مختلف محکموں نے بعد ازاں ”قبضہ واگزاری“ اور دیگر کارروائیوں کا تاثر تو دیا، مگر اصل تجاوزات اور ماسٹر پلان کی خلاف ورزیاں جوں کی توں برقرار ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا۔ حکومتِ آزاد کشمیر، پی ڈی اے، میونسپل کارپوریشن راولا کوٹ، محکمہ ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر پونچھ اور احتساب بیورو کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

تمام محکموں کو حکم دیا کہ جواب، حلف نامے اور متعلقہ ریکارڈ آئندہ تاریخ سے پہلے جمع کرائیں۔

عدالت نے نالوں، گرین بیلٹس اور متنازعہ تعمیرات کے حوالے سے موجودہ اسٹیٹس کو بھی برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا جس کے مطابق کسی قسم کی نئی تعمیر، منظوری، کاروائی، تبدیلی یا قبضہ مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کیس کو مزید سماعت 10 دسمبر 2025 تاریخ مقرر کی۔

Scroll to Top