پشاور(کشمیر ڈیجیٹل)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں آئینی ترمیم کیلئے تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کردیں۔
اے این پی نے تجاویز دیں کہ آبی بجلی پیدا کرنے والے صوبوں پر وفاقی ٹیکس ختم کیاجائے اور ان صوبوں میں گھریلوصارفین کیلئے 10روپےفی یونٹ تک ریٹ مقررکیاجائے۔
اے این پی نے تجویز دی کہ تمباکو کاشتکاروں پرتمام ٹیکس ختم کیےجائیں اور کچے تمباکو کا ٹیکس مکمل طور پرصوبوں کو دیاجائے۔
اے این پی کا کہنا تھاکہ مستقل اور آئینی بلدیاتی حکومتوں کا قیام کیا جائے، بلدیاتی انتخابات ہر 4 سال بعدکرانے اور انتظامیہ کوبلدیاتی نظام میں مداخلت سے روکا جائے۔
اے این پی نے تجویز دی کہ صوبےکا نام خیبرپختونخوا سے بدل کر ’پختونخوا‘ کیاجائے اور آئینی دستاویزات میں “پختونخوا” نام استعمال کیا جائے، تجاویز کا مقصد وفاقیت اور معاشی انصاف کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردیوں کی تعطیلات: 8 دسمبر سے 4 جنوری تک سکول بند رکھنے کا اعلان
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا مشترکہ اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں شروع ہوا۔
اجلاس کے دوران اے این پی نے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم کمیٹی میں پیش کردی، صوبے کے نام سے خیبر ہٹا کر صرف ’پختونخوا‘ رکھنے کی ترمیم پیش ہوئی ہے۔
اے این پی کا موقف ہے کہ خیبر ایک ضلع ہے اس لیے دیگر صوبوں میں نام کے ساتھ ضلع کا نام نہیں لکھا جاتا۔
اے این پی کے سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے خیبر ہٹانے کی تجویز دی ہے، ہم چاہتے ہیں صوبے کا مختصر نام ہو، خیبر ہمارا ضلع ہے صوبے کیساتھ نام نہیں ہونا چاہیے، خیبرپختونخوا نام بڑا ہوجاتا ہے لوگ کے پی لکھ دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس آئینی ترمیم کی کس بات کی اتنی جلدی ہے، کیا آئینی ترمیم پر بحث ضروری نہیں ہے، اب تو اس ترمیم پر ایوان میں بحث کی گنجائش ہی نہیں ، اجازت ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے موقع پر اپوزیشن لیڈر نہیں ، یہ کس جمہوریت کی نشاندہی کرتا ہے، 26ویں ائینی ترمیم عجلت میں کی اور اس میں خامیاں رہ گئیں، آج پھر ہم عجلت میں آئین جو تبدیل کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے نام کو دوبارہ تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے، عجلت نہ کریں، جو اچھی ترامیم ہوں گی ہم اپ کے ساتھ بیٹھ کر مانیں گے، ہماری تجاویز پر ہمارے ساتھ بیٹھا جائے لیکن ہم بلڈوز کا حصہ نہیں بنیں گے۔




