افغان سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال تشویشناک ہے، پاکستان کا تاجکستان میں چینی شہریوں کے قتل پر ردعمل

اسلام آباد:پاکستان نے تاجکستان میں چینی شہریوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان پر دہشتگرد حملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا۔

دفترخارجہ نے افغان سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پر پوری عالمی برادری کو تشویش ہے۔ حملے میں ڈرون کے استعمال سے خطرے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان اور تاجک فورسز کے درمیان جھڑپیں، 3 چینی شہری ہلاک

ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیاکہ تاجکستان، چین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے، چینی اور تاجک عوام کے دکھ کو پاکستان پوری طرح سمجھتا ہے، پاکستان بھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دہشتگرد گروہوں کی میزبانی افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری ہے، افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اور قابل تصدیق کارروائی ضروری ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیاکہ پاکستان، چین اور تاجکستان کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، 41 ممالک میں سلیپرز سیلز کی موجودگی کا امریکی انکشاف

یاد رہے کہ افغانستان سے تاجکستان کی سرحد پر ڈرون حملے میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاجک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے تاجکستان کے جنوب میں ایک چینی کمپنی پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ امریکی وفاقی انٹیلی جنس (ایف بی آئی ) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے جڑے مبینہ دہشتگرد سلیپر سیلزدُنیا بھر کے متعدد ممالک میں سرگرم ہو گئے ہیں، جس سے عالمی سلامتی ایک نئے اور پیچیدہ خطرے سے دوچار ہو گئی ہے

امریکی وفاقی ایجنسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ابتدائی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان سے وابستہ انتہاپسند نیٹ ورکس دُنیا کے کم از کم 41 ممالک میں کام کر رہے ہیں، جس کے باعث یورپ اور شمالی امریکا میں سکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

Scroll to Top