لاہور(کشمیر ڈیجیٹل)لاہور ہائیکورٹ کے جج کی 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت
لاہور ہائی کورٹ نے پسند کی شادی کا دعویٰ کرنے والے نوجوان پر غلط بیانی ثابت ہونے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:10 لاکھ روپے تک نقد انعام جیتنے کاسنہری موقع، شہریوں کیلئے بڑی آفر آگئی
جسٹس راجہ غضنفر علی خان نے شہری شعیب ظفر کی درخواست پر سماعت کی، جس میں اس نے مؤقف اپنایا تھا کہ اس نے 6 جون 2025 کو فریدہ بی بی سے پسند کی شادی کی ہے اور لڑکی کے والدین اسے زبردستی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اگر لڑکی نے درخواست گزار کے حق میں بیان نہ دیا تو اسے 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا اور جرمانہ ادا ہونے تک وہ پولیس کی حراست میں رہے گا۔
بعد ازاں فریدہ بی بی نے عدالت میں والدین کے ساتھ جانے کا بیان دے دیا، جس پر عدالت نے شعیب ظفر کی غلط بیانی ثابت ہونے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
یاد رہے کہ کم عمر بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل گذشتہ ہفتے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا تھا۔ اس بل کو قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی جبکہ سینیٹ میں شیری رحمان نے پیش کیا۔
جمیعت علما اسلام نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس بل پر اسلامی قوانین کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی تجویز دی تھی جو کہ مسترد کر دی گئی۔
اس بِل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ صرف کم سن لڑکی سے شادی، چائلڈ ابیوز اور سمگلنگ کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں بلکہ اس کے تحت والدین، سرپرست اور نکاح خواں کو بھی سزا ہو سکتی ہے۔




