اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم افغاانستان میں کارروائی کریں گے تو واشگاف انداز میں کریں گے ، انہوں نے واضح کیا کہ ہم کارروائی میں شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو جس سے انہیں بھی فائدہ ہوگا اور اس کے لیے وہ بہت جلد مداخلت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کچہری خودکش حملہ:منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، 4 سہولت کار گرفتار، عطا اللہ تارڑ
خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان تنہا رہ جائیں گے جس کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں ہوگا ، دہشتگردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کمانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے۔ ہمیں افغان طالبان سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں ہے ۔ اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ ان پر اعتبار کیا جائے ۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسپلن ہیں، طالبان کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں، ہمیں طالبان سے اچھائی کی امید نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے کس مذہب و معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی سرزمین پر رہے ہوں اور وہاں خونریزی کریں، آگ لگائیں، طالبان کونسی شریعت کو ماننے والے ہیں؟ یہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو، خطے میں امن ہوگا تو سب ہی اس کے بینیفشری ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملوں کے دعوے کی تردید
خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان کو تجارت کیلئے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا ہے تو ضرور کرے، افغانستان اگر بھارت کےساتھ تعلقات رکھنا چاہتاہے تو ضرور رکھے۔




