پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملہ، تحقیقات میں اہم پیشرفت

پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے۔ واقعے کے بعد تفتیشی عمل میں وہ تمام نکات شامل کیے گئے جن پر براہِ راست حملے اور حملہ آوروں کی سرگرمیوں کی روشنی میں کام کیا جا رہا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس پیشرفت کا مرکز حملہ آوروں کی شناخت، ان کے استعمال شدہ مواد اور ان کی نقل و حرکت کے حوالے سے حاصل ہونے والے شواہد ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق حملہ آور تین دہشت گردوں کی شناخت کیلئے فنگر فرنٹس نادرا کو بھیج دئیے ہیں۔ یہ پیشرفت تفتیش کے اس حصے کو مزید اہم بناتی ہے جہاں شناخت کے عمل سے نیٹ ورک کی گہرائی تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان معلومات کا بنیادی مقصد حملہ آوروں کی حتمی شناخت مکمل کرنا ہے تاکہ ان کے روابط کی نشاندہی ممکن ہو سکے اور تفتیش کا عمل مزید مؤثر طریقے سے آگے بڑھ سکے۔

تحقیقات کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال موٹر سائیکل کو تحویل میں لے کر فنگر فرنٹس لئے گئے ہیں۔ یہ موٹر سائیکل حملہ آوروں کی آمد و رفت کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جا رہی ہے، اور اس سے حاصل شدہ شواہد تفتیش کے تکنیکی پہلوؤں کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس موٹر سائیکل سے حاصل ہونے والے نشانات مستقبل کے شواہد کے ساتھ جوڑ کر نیٹ ورک کی مزید تہوں تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تفتیشی ٹیم نے دہشت گردوں کے آنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔ یہ فوٹیج حملہ آوروں کی حرکات، راستوں اور دیگر پہلوؤں کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ فوٹیج کی بنیاد پر تینوں دہشت گردوں کی تصاویر مل چکی ہیں، جو تحقیقات کے عمل میں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ:خودکش بمبار کی تصویر منظر عام پر آ گئی

مزید یہ کہ دہشت گردوں نے جہاں رات گزاری ان کی شناخت ہو چکی ہے۔ اس مرحلے کی تکمیل تفتیش کو اس سمت میں لے جا رہی ہے جہاں حملہ آوروں کے قیام اور رابطہ پوائنٹس کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ابھی تک کسی سہولت کار کو حراست میں نہیں لیا گیا، تاہم تفتیش آگے بڑھ رہی ہے اور اہم مقامات سے حاصل شدہ شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی حملوں کے دعوے کی تردید

تحقیقات کے مطابق کافی پیچھے تک شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو ٹریس کر لیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت اس بات کا اشارہ ہے کہ تفتیش صرف سطحی نہیں بلکہ نیٹ ورک کی گہرائی تک جا رہی ہے۔ یہ تمام پیشرفتیں اس اہم واقعے کی تفتیش میں بڑے قدم کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

Scroll to Top