مہنگائی سے ستائے شہریوں کے لیے ایک اور بُری خبر آ گئی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، اور ہفتہ وار مہنگائی 0.07 فیصد بڑھ کر مجموعی سالانہ شرح 3.53 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 16 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 13 اشیاء کی قیمتیں کم ہوئیں اور 22 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ مہنگائی کے اثرات عوام کی خریداری کی قوت پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 57.03 فیصد بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ لہسن 2.61 فیصد اور چینی 2.23 فیصد مہنگی ہوئی۔ کیلے اور چائے کی قیمتیں بھی معمولی بڑھ کر بالترتیب 0.72 اور 0.59 فیصد ہوگئیں۔ اس کے علاوہ ڈیزل، بیف، کوکنگ آئل، ایل پی جی اور جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جس سے روزمرہ کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سرحد بندش سے افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار
دوسری جانب صارفین کے لیے کچھ راحت کی خبر بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ پیاز 12.38 فیصد اور چکن 8.07 فیصد سستا ہوا۔ آلو، آٹا، انڈے، دال مونگ اور دال چنا کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے معمولی سکون حاصل ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مختلف عوامل جیسے موسمی حالات، درآمدی قیمتوں اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی عوام کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ‘ نامی سونے سے تیار ٹوائلٹ فروخت ،حیران کن قیمت سامنے آگئی
یہ صورتحال شہریوں کے لیے تشویشناک ہے، خاص طور پر اُن کے لیے جو محدود بجٹ میں گھرانہ چلا رہے ہیں، کیونکہ مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح روزمرہ ضروریات کی خریداری کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔




