میرپور (کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر ماڈل کالج میں انٹریکٹو سیشن ہوا جس میں کرنل شیراز احمدنے طالبات کے سوالات کے بھرپور جوابات دیئے ۔
طالبات نے کرنل شیراز احمد سے سخت سوالات کئے جن کے بڑے تحمل سے جوابات بھی ملے اور بچے ان جوابات سے محضوظ بھی ہوئے
کرنل شیراز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسٹرن اور ویسٹرن بارڈپر بھارت پراکسی وار میں ملوث ہے

۔ایسی صورتحال میں کشمیر ڈیجیٹل نے بہترین اقدام اٹھاتے ہوئے بچوں میں آگاہی کیلئے ایک سیشن کروایا تاکہ بچوں کو ملکی اور بین الاقوامی حالات سے منظم طور پرآگاہی ہو۔
کرنل شیراز احمد کا کہنا تھا کہ دشمن نے پاکستان کو چاروں طرف سے گھیررکھا ہے ۔ ہائیبرڈ وار ہو یا سوشل میڈیا وار بھارت ہر جگہ پاکستان کیخلاف سازشوں میں ملوث ہے ۔
سمندری راستے ہوں یا فضائی ، زمین راستے ہوں یا پہاڑی ، کشمیرہو یا بلوچستان، گلگت بلتستان ہو یا خیبرپختونخوا افغان سرحد ہر جگہ بھارت اپنی مکارانہ چالیں چلنے سے باز نہیں آرہا ۔
کرنل شیراز احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے ، بھارت چین کے بعد بڑی آبادی والا ملک ہے مگر پاکستان میں چھپ چھپ کر حملے کرواتا ہے۔۔
میں بھارت سے کہنا چاہتا ہوں کہ سامنے آو اور پاکستانی افواج سے لڑو ۔ ہماری مسلح افواج اور ہماری فضائیہ تمہارے دانت کھٹے کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے ۔
ایک طالبہ کے سوال کہ آزادکشمیر میں سویلین احتجاج کے دوران سول فورسزعوامی تحفظ کے نام پر سویلین پر لاٹھی چارج اور آنسوگیس شیلنگ کرتی ہیں تو کیا سکیورٹی فورسز اس معاملے کوسلجھا نہیں سکتیں
طالبہ کے سوال کے جواب میں کرنل شیراز کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں کسی قسم کا احتجاج نہیں ہونا چاہیے اور اگر عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی بات ہورہی ہے تو ان کے 32 مطالبات تھے جو حکومت نے وقتاً فوقتاً منظور کئ
ے۔اس کے بعد ضرورت نہیں تھے کہ ہم احتجاج کی طرف جائیں۔پولیس اور سویلین کی شہادتوں کے بعد بھی وہ دو پوائنٹس ادھر ہی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اتنی اموات کے بعد جو عوامی ایکشن کمیٹی کو ملا وہ اس سے پہلے ہی حکومت منظور کرچکی تھی
249 پولیس کے اہلکار مارے گئے جبکہ 70 اہلکار زخمی ہوئے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر کابینہ، ہیلتھ کارڈ کا اجراء،تعلیمی اداروں میں سٹاف کی کمی دور کرنے کا فیصلہ
یہ کس نے کی ہے یہ کشمیریوں نے تو نہیں کی۔اس لاکھوں کے ہجوم میں کہیں نہ کہیں دشمن ہمیں آپس میں لڑانے کیلئے ہوا دیتا ہے ۔ اور پھر عوام غصے میں آکر پولیس اور پولیس اہلکار بھی جوابی کارروائی کرکے عام عوام کے غیض وغضب کا سامنا کرتے ہیں۔
کرنل شیراز کا کہنا تھا کہ یہ دشمن کا ایجنڈا ہے اس پر ہمیں نظر رکھنی چاہیے کیونکہ ہر طرف اس وقت دہشتگردی کا ماحول ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں اپنی صفوںمیں دشمن کے ایجنٹوں کا پتہ چلانا ہوگا۔۔ کہ کہیں کوئی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل کر قوم یا ریاست کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا ۔
ایک طالبہ نے سوال کیا کہ پاکستان ، بھارت اور کشمیر تین مختلف ریاستیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں بھارت نے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے تو کیا پاکستان نے بھی کشمیر پر قبضہ نہیں کررکھا ،پھر کشمیریوں کی شناخت کہاں ہے ۔
جبکہ پاکستان کی کرنسی ،پاکستانی شناختی کارڈ ، پاکستانی مصنوعات ہی ہم استعمال کررہے ہیں تو کیا ہماری شناخت کشمیری نہیں ہونی چاہیے ؟۔
اس کے جواب میں کرنل شیرازا حمد کا کہنا تھا کہ دنیا کے اندر کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے جس کی قراردادیں اقوام متحدہ میں موجود ہیں ۔
آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر ایڈمنٹریٹو یونٹس ہیں ۔ آزادکشمیر میں ایڈمنسٹریشن پاکستان نے کرنی ہے اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت حکمرانی کررہا ہے جب تک مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوجاتا۔
۔میرا ان کشمیری لوگوں سے سوال ہے کہ کیا خود مختار کشمیر تادیر پائیدار رہ سکتا ہے ۔ پاکستان چاہتا ہے کہ پہلے مقبوضہ کشمیر آزاد کروائیں گے پھر آزادکشمیر کو ملا کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جب تک دوسرا کشمیر بھارت کے چنگل میں ہے۔۔
آزادکشمیر سے پاکستان نکل بھی جائے تو یہاں ایسا کیا ہے کہ کشمیری خود کو سنبھال سکیں گے اور بھارت کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہونگے یا بھارت کی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے ۔دنیا طاقتوروں کی ہے اگر پاکستان نہ ہوتا تو کشمیر کب کا بھارت کا ترنوالہ ہوچکا ہوتا
پورا کشمیر پاکستان میں کمانڈ کررہا ہے ۔ اور الحمد للہ کشمیریوں کیلئے یہ بات قابل فخر ہے کہ ایک بڑی تعداد پاک فوج، پاک فضائیہ کا حصہ ہے ، پاکستان کے بڑے بڑے اداروں میں کشمیری اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے ۔
کرنل شیراز احمد کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر عوام کا المیہ یہ ہے کہ انہیں اچھی قیادت نہیں ملی ، عوام جنہیں منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجتی ہے وہ اپنے چکروں میں پڑے رہتے ہیں ۔ میر ی سیٹ تو تیری سیٹ اور اقتدار کے چکروں میں عوامی مسائل کو ہی بھول جاتے ہیں ۔
ایک اور طالبہ ماہین عطاالرحمن نے کرنل شیراز احمد سے سوال کیا کہ پاکستان اور آزادکشمیر کے پاس اتنے وسائل اور طاقت ہے تو پھر اس کی عوام کے اتنے برے حالات کیوں ہیں۔
ماہین عطاء الرحمن کے سوال کے جواب میں کرنل شیراز احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں کےدرمیان گرا ہوا ہے ۔ اور پاکستان میں انٹرنیشنل پالیٹیکس ہورہی ہے ۔ پاکستان کے پیچھے پوری دنیا پڑی ہوئی ہے ۔یہ دنیا طاقتوروں کی ہے ۔
اور طاقتور یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان زندہ رہے مگر اس کی نبض چلتی رہے یہ گروم نہ کرے ۔ اس میں کچھ ہمارے اپنے لوگوں کا قصور ہے اور کچھ عالمی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان ترقیافتہ ممالک میں شامل ہو۔
لیکن اس کے باوجود الحمد للہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے اور اس کے پیچھے ایٹمی طاقت کا ہونا ہے ۔ مشرق وسطیٰ کے لوگ ترقی کی انتہا کو پہنچ گئے مگر انہیں پھر بھی غم ہے کہ کہیں اسرائیل حملہ نہ کردے کہ پھر وہ دوبارہ صحرا میں تبدیل ہوجائیں ۔
اگر ہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو آج ہم بھی غزہ والوں کی طرح تڑپ رہے ہوتے ۔ یہ دنیا بہت بے رحم ہے اور یہ کمزور کو جینے نہیں دیتی اس لئے ہمیں اپنے آپ کو اگے لے کر چلنا ہوگا اور کم وسائل میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
آزاد کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور پاکستان اور بھارت دو پارٹیز ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کشمیر نے کس ملک کیساتھ جانا ہے۔۔۔۔۔سنیے طلبہ کے کڑے سوالات کرنل شیراز احمد سے
پاکستان کا موقف یہ ہے کہ وہ کشمیر کو پہلے آزاد کروائے پھر یہ فیصلہ کشمیر کا ہے اس نے بھارت کیساتھ جانا ہے، چائنہ کیساتھ جانا ہے




