اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کہ ہائی جی منووَر میں اسٹرکچرل فیلیئر، مسلسل جی لوڈ کے دوران وِنگ اسپار میں دراڑ یا لیمینیٹ کا اُکھڑ جانا،
ٹیل پلین یا ایلیویٹر کی ساختی ناکامی، ڈھیلے ہِنجز یا گھِسے بیئرنگ کی وجہ سے کنٹرول سرفیس کا ہلنا،کنٹرول سسٹم کی ناکامی، لینکج ٹوٹنے سے ایلیرون، ایلیویٹر یا روڈر کا جام ہوجانا،
پرانے طیاروں میں کنٹرول کیبل کا ٹوٹ جانا، ہائیڈرولک فیلئر جس سے کنٹرول کا جواب غیر متوازن یا مکمل غائب ہو جائے تیجس کی ممکنہ خرابیاں ہیں۔
دبئی ایئر شو میں جمعے کی دوپہر بھارتی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس پرواز کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس میں پائلٹ ہلاک ہوگیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دبئی ایئرشو کے دوران بھارت کا لڑاکا طیارہ تیجس گرکر تباہ
بھارتی فضائیہ کے مطابق یہ حادثہ طیارے کی 24 سالہ تاریخ میں دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال راجستھان کے جیسلمیر میں ایک ہاسٹل کمپلیکس کے قریب تیجس کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں بھی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔
تیجاس بھارتی دفاعی صنعت کا مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ ہے جو سنگل سیٹر ڈیزائن پر مبنی ہے، جبکہ فضائیہ اور بحریہ اس کا ٹوئن سیٹر ٹرینر ویرینٹ بھی استعمال کرتی ہیں۔
طیارے کا پہلا ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر TD-1 سال 2001 میں آزمائشی پرواز کے لیے تیار ہوا، اور بعد ازاں ابتدائی آپریشنل کلیئرنس (IOC) کے ساتھ دوسرے سیریز پروڈکشن طیارے SP2 کی پہلی پرواز 22 مارچ 2016 کو مکمل کی گئی۔
تیجاس 4,000 کلوگرام تک اسلحہ اور آلات اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے بھارت کی مقامی ایروناٹکس ٹیکنالوجی کی اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
#Tejas aircraft crashes in Dubai Air show and today was the last day of the event.
Pilot not seen ejecting on video!
Read lotsa smear campaign from day1 against our platform
This is sad and need detailed investigation for sabotage
Sad Sad day!
— Soum_Speaks (@soum_speaks) November 21, 2025
ماہرین کے مطابق انجن یا پاور پلانٹ کی خرابی، ورٹیکل چڑھائی کے دوران اچانک انجن جام ہونا، جس سے اسٹال اور اسپن ہو جائے، منفی جی پر فیول پِک اپ صحیح نہ ہونے سے فیول کی کمی شامل
ماہرین کے مطابق پروپیلر گورنر میں خرابی آجائے جس سے آر پی ایم حد سے زیادہ بڑھ جائے، ٹرِم یا اسٹیبلٹی سسٹم میں خرابی ہو، رَن اوے ٹرِم جو منووَر کے دوران ناک کو اوپر یا نیچے دھکیل دے،
جدید ائیروبٹک جیٹس میں آٹو اسٹیبلٹی سسٹم کی خرابی، فلائٹ کنٹرول سرفیس کا ٹوٹ کر الگ ہوجانا، بولٹ فیل ہونے سے ایلیرون یا ایلیویٹر کا الگ ہو جانا، زیادہ ہوا کے دباؤ میں روڈر کا ہِنج لائن سے نکل جانا تیجس کی ممکنہ خرابیاں ہیں۔
ماہرین نے رائے دی ہے کہ انسٹرومنٹیشن فیلئر جس سے طیارہ کی حالت کا غلط اندازہ ہو، سخت منووَر کے دوران ایٹیٹیوڈ انڈیکیٹر یا ہورائزن جائرو کا خراب ہونا،
ایئر اسپیڈ انڈیکیٹر کی بندش سے ڈائیو میں اوور اسپیڈ ہو جانا، فیول یا آئل سسٹم کی خرابی، زیادہ زاویے پر اُڑتے وقت آئل پریشر کم ہونا اور انجن بند ہونا، ویپر لاک یا فیول پمپ فیل ہونے سے انجن کا اچانک بند ہونا،
الیکٹریکل سسٹم کی ناکامی، ڈبل بس فیلئر جس سے الیکٹرانک اگنیشن یا فیڈیک بند ہو جائے، ایونکس فیل ہوجانا جو فلائی بائی وائر اسٹیبلٹی کو کنٹرول کرتی ہے، پروپیلر یا روٹر سسٹم کی خرابی ہو،
پروپ بلیڈ کے روٹ میں دراڑ ہو جس سے عدم توازن آجائے یا بلیڈ ٹوٹ کر نکل جائے تو طیارہ تباہ ہوجاتا ہے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ کانسٹنٹ اسپیڈ پروپ کا بے قابو ہو جانا جس سے تھرسٹ کنٹرول ختم ہو جائے، ہائی اسپیڈ ایروڈائنامک فیلئر،
ہائی اسپیڈ پل آؤٹ میں شاک سے کنٹرول سرفیس کا اسٹال ہو جانا، کینوپی کا الگ ہو جانا، جس سے اچانک ڈریگ اور عدم استحکام پیدا ہو جائے، یہ بھی طیارہ تباہ ہونے کی وجوہات ہیں۔




