مظفرآباد:آزاد کشمیر حکومت نے انتظامی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے متعدد محکموں کا انضمام اور نئے سرکاری ڈھانچے کی تشکیل نو کر دی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق نئے انتظامی ماڈل کے تحت مجموعی طور پر 21 محکمے قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد گورننس کو مؤثر، تیز اور ہم آہنگ بنانا ہے۔
نئے ڈھانچے میں فوڈ، ایگریکلچر، لائیوسٹاک، ڈیری ڈیویلپمنٹ، آبپاشی اور چھوٹے ڈیمز کے شعبوں کو مربوط کر کے ترقیاتی امور میں ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر:نئے وزراء کو محکمہ جات الاٹ،میاں عبدالوحید سینئر وزیر نامزد
اسی طرح بورڈ آف ریونیو و ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشنز اینڈ ورکس، ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن، توانائی و آبی وسائل، فنانس، جنگلات، وائلڈ لائف و فشریز کو بھی نئے سٹرکچر میں واضح ذمہ داریوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت و پاپولیشن ویلفیئر، ہائر ایجوکیشن، داخلہ و سول ڈیفنس، صنعت و تجارت، لیبر ویلفیئر، ویٹس اینڈ میژرز، منرل ریسورسز، سیری کلچر اور پرنٹنگ پریس بھی اصلاحاتی فہرست کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ اطلاعات و آئی ٹی، ان لینڈ ریونیو، کشمیر کاز، آرٹس و لینگویجز، قانون و انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کے شعبوں کو بھی نئے انتظامی نقشے میں اہمیت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں کتنے وزرائے اعظم کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا؟
مزید یہ کہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی، فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ، پلاننگ و ڈیویلپمنٹ، سروسز و جنرل ایڈمنسٹریشن، سپورٹس، یوتھ، کلچر، ٹورازم و آرکیالوجی، اوقاف، زکوٰۃ، سوشل ویلفیئر، ویمن ڈیویلپمنٹ اور مذہبی امور کو بھی نئے حکومتی ڈھانچے میں شامل رکھتے ہوئے محکموں کی ذمہ داریوں کو ازسرنو متعین کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق اس بڑے پیمانے کی ری اسٹرکچرنگ کا مقصد اخراجات میں کمی، پالیسیوں کے بہتر نفاذ، اور عوامی خدمات کی فراہمی میں شفافیت و بہتری لانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ڈھانچے کے نفاذ سے محکموں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ حکومتی مشینری زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گی۔




