راولپنڈی : اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے دھرنے کیخلاف پولیس نےآپریشن کرتے ہوئے متعدد افراد کو تحویل میں لے لیا ۔ اس دوران پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔
علیمہ خان نے پہلے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دینے سے انکار نہیں کیا تھا ، جس کے بعد خواتین پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی اور دھرنے پر موجود کارکنوں کو راستہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ پولیس کی درخواست کے باوجود مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور علیمہ خان نے دھرنا ختم کرنے سے صاف انکار کیا ۔
اس کے نتیجے میں پولیس نے دھرنے کے شرکاء کو راستے سے ہٹانے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا اور 8 سے 10 کارکنوں کو تحویل میں لے کر قیدی وین میں منتقل کیا ۔ علیمہ خان کو بھی اسی دوران تحویل میں لیا گیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کی پنجاب بھر میں جائیدادوں کی چھان بین شروع
دھرنے کے دوران عمران خان کی دوسری ہمشیرہ نورین نیازی کی طبیعت اچانک خراب ہوئی، جس کے باعث انہیں فوری طور پر طبی توجہ درکار تھی ۔ خیال رہے کہ پولیس نے اڈیالہ جیل جانے والے راستے کو بند کر دیا تھا اور آج بھی کسی رہنما یا فیملی ممبر کو بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی تھی ۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کا مقصد دھرنے کے ذریعے حکومت اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا اور قیدی چیئرمین کے لیے آسان ملاقات ممکن بنانا تھا ۔ تاہم پولیس کی کارروائی اور سکیورٹی انتظامات کے سبب دھرنا جلد ختم کروا دیا گیا ۔
پی ٹی آئی پارٹی کارکنان اور قائدین کے دھرنے اور پولیس کی کارروائی کے درمیان تصادم دیکھنے کو ملا ۔ واقعے کے بعد ماحول تناؤ سے خالی نہیں رہا اور حکومت اور پارٹی کے درمیان سیاسی کشمکش جاری رہنے کاواضح امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔




