بلاول بھٹو کا حلف برداری تقریب میں بھر پورخطاب

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب اس وقت سیاسی طور پر توجہ کا مرکز بنی جب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں مختلف اہم نکات اٹھائے۔

تقریب میں ان کا خطاب کئی اہم سیاسی حوالوں اور کشمیر کے عوام کے جذبات سے جڑی باتوں پر مشتمل تھا، جس میں انہوں نے کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کا آغاز بھارتی وزیر اعظم کے کردار پر تنقید سے کیا اور کہا کہ “مودی دنیا سے اپنا منہ چھپا رہا ہے اور دنیا کا کوئی بھی فورم ہو وہ وہاں سے بھاگ رہا ہے۔”

بلاول بھٹو نے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں نمائندگی کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ “جب آپ کا نمائندہ آپ کی نمائندگی نہیں کر سکتا تو عوام کو خود جد جہد کرنا پڑتی ہے، اب یہاں آپ کا نمائندہ فیصل ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “کشمیر کے عوام جب سراپا احتجاج تھے تو فیصل ان کو بھی دیکھ رہے تھے۔”

یہ بھی پڑھیں: راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے بحیثیت آزاد کشمیر کے سولہویں وزیر اعظم حلف اٹھا لیا

انہوں نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کے سامنے عوامی توقعات موجود ہیں اور وہ ان وعدوں کی تکمیل کے ذمہ دار ہیں جو وہ عوام سے کر چکے ہیں۔ اسی حوالے سے انہوں نے کہا کہ “فیصل نے عوام سے جو وعدے کئے وہ میرے پاس آپ کے امانت ہیں۔ فیصل عوامی مسائل جو آپ کے اختیار میں ہیں وہ آپ حل کریں، جو پاکستان کے متعلق ہیں وہ ہم کریں گے۔ آپ نے عوام سے کیے وعدے پورے کرنے ہیں۔”

بلاول بھٹو نے اپنے سیاسی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان پیپپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور عمران خان کو اقتدار دیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میں خود انتخابات میں آپ کے پاس آیا تھا، آپ نے اور گلگت بلتستان نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔”

انہوں نے پی ڈی ایم کے دور میں کیے گئے فیصلوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ “کبھی کبھی سیاست میں فیصلے لئے جاتے ہیں، پی ڈی ایم کے دور میں فیصلہ ہوا اور اس فیصلے سے ایک سیاسی ویکیوم پیدا ہوا۔” بلاول بھٹو نے کشمیری عوام کے سیاسی شعور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “جتنا سیاسی شعور کشمیر میں ہے اتنا کہیں نہیں، یہاں سے سیاست ختم کرنا ایسا ہی ہے جس طرح مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔”

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی سے محبت کی، لیکن سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے ان کے مینڈیٹ کو کئی مرتبہ چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران کیے گئے فیصلے اگرچہ کاغذ پر قبول کیے گئے، مگر دل نے قبول نہیں کیا اور ان فیصلوں سے کشمیر میں سیاسی خلا اور عوام میں ڈس کنیکٹ پیدا ہوا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی اور مودی اب پوری دنیا سے اپنا منہ چھپا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کسی یو این پروگرام میں نہیں جاتا کیونکہ وہ بزدل اور ڈرپوک ہے جو جنگ میں ہار چکا ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق مودی سرکار جنگ میں بھی ناکام ہوئی اور اب ان کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیر اعظم کو مبارکباد دی

انہوں نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق اور مطالبات پورے کیے جائیں، ان کا اعتماد بحال ہونا سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ بلاول بھٹو نے عزم ظاہر کیا کہ پیپلز پارٹی کشمیر کے عوام کے آئینی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

تقریب کے اختتام پر بلاول بھٹو نے شہید بے نظیر بھٹو کے قول کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “شہید بے نظیر بھٹو نے ہمیں بتایا تھا جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا۔”

 

Scroll to Top