بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی سے متعلق دی اکانومسٹ کے بڑے انکشافات

برطانوی جریدے “دی اکانومسٹ” نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق اہم انکشافات کرتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی، سیاسی سفر اور طرز حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے سیاست کے بجائے توہم پرستی پر انحصار کیا اور سیاسی طاقت کے ذریعے اپنی پیرنی بشریٰ بی بی سے شادی کی۔ سینئر صحافی اوون بینٹ جونز کے مطابق بشریٰ بی بی نے روحانی علم کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ اگر دونوں کی شادی ہو جائے تو وہ وزیراعظم بن جائیں گے، اور پنجاب کی پیرنی نے بانی کی ذاتی زندگی اور سیاست پر عملیات کا رنگ چڑھایا۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے تین خلا باز ایک ہفتے بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

رپورٹ میں کہا گیا کہ اقتدار کے حصول کے لیے بانی پی ٹی آئی نے دین داری کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا جبکہ اقتدار ملنے کے بعد میرٹ کے نعرے صرف الفاظ ثابت ہوئے۔ ریاستی امور میں بشریٰ بی بی حرف آخر تھیں اور انہوں نے تقرریوں، فیصلوں اور حتیٰ کہ وزیراعظم کے سفر کے اوقات پر بھی عملیات کا اثر ڈال رکھا تھا۔ یہاں تک کہ بشریٰ بی بی کی اجازت کے بغیر وزیراعظم کا طیارہ اڑان نہیں بھرتا تھا۔

برطانوی جریدے نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ سے ہونے والی اہم ترین ون آن ون ملاقات میں بھی بشریٰ بی بی موجود تھیں اور زیادہ تر وقت وہی بولتی رہیں۔ مزید بتایا گیا کہ جب اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیر نے بشریٰ بی بی کی کرپشن سامنے لانے کی کوشش کی تو بانی پی ٹی آئی نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ عوام سے کیے گئے سیاسی وعدوں میں ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو اقتدار سے ہٹایا گیا اور بعد ازاں ریاستی تحائف اور ایک اسلامی یونیورسٹی کے منصوبے میں بدعنوانی کے مختلف مقدمات میں جیل بھیج دیا گیا۔ متعدد مقدمات میں بشریٰ بی بی بھی پابند سلاسل ہیں۔

اسی رپورٹ میں اوون بینیٹ جونز نے لکھا کہ بشریٰ بی بی اہم سرکاری تقرریوں اور روزمرہ فیصلوں میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں، جس سے فیصلہ سازی میں “روحانی مشاورت” کا غالب کردار سامنے آیا۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ نہیں کر سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حساس اداروں کے کچھ افسر مبینہ طور پر ایسی معلومات انہیں فراہم کرتے تھے جنہیں وہ بانی پی ٹی آئی کے سامنے روحانی بصیرت کے طور پر پیش کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی جنسی سکینڈل “ایپیسٹین لیک” میں عمران خان کا نام آگیا

نجی چینل سے گفتگو میں رپورٹ کی شریک مصنفہ بشریٰ تسکین نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے جادو ٹونے پر پہلے بھی رپورٹنگ ہوتی رہی، مگر اس بار سامنے آنے والی معلومات حیران کن تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو جس طرح کنٹرول کیا، اس کے نتیجے میں ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روحانیت اور جادو ٹونے کی بنیاد پر حکومتی فیصلے ہونا، تقرر و تبادلے ہونا اور روزمرہ حکومتی معاملات عملیات کے مطابق چلنا ان کے لیے بھی انتہائی حیران کن تھے۔

Scroll to Top