فارورڈ کہوٹہ (کشمیر ڈیجیٹل )ضلع حویلی جغرافیائی اعتبار سے ایک کٹھن حقیقت بن چکی ہے، معاشی مسائل آمدورفت کی کمی اور طبی سہولیات کے فقدان نےاِس خطے میں غرباءاور محنت کش طبقے کو کچل کر رکھ دیا۔
تاہم زچگی کو زندگی کی بشارت کے بجائے خطرے کا مرحلہ بنا دیا ، طویل عرصے تک خواتین محض حیاتیاتی کمزوری کانہیں بلکہ سماجی معاشی اور طبی محرومی کا بھی شکار تھیں ۔
اب ضلع حویلی میں ایک خاموش انقلاب برپا ہوا ہے آرمی کی مدد سے حفظانِ صحت کی آگہی آاور مقامی تربیت یافتہ عملے کی دستیابی نےحویلی کے صحت یاتی منظرنامے میں نمایاں تغیر پیدا کیا ہے ۔
اِسی تغیر کی نمایاں علامت ڈاکٹر عائشہ شبیر ہیں جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت، سائنسی بصیرت اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر کےاس خطے کی طبی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے ۔
ڈاکٹر عائشہ شبیر کی سب سے بڑی خُوبی اِن کا دردِ دل اور غیر جانب دارانہ انسان دوست رویہ ہے ،محترمہ رنگ و نسل میں امتیاز کیے بغیر ہر مریض کے لیے یکساں شفقت رکھتی ہیں ۔
اِن کی گفتار میں وقار، رویے میں توازن اور عمل میں خلوص جھلکتا ہے وہ محض علاج نہیں کرتیں بلکہ مریضہ کے اعتماد کوبھی بحال کرتی ہیں ورثاء کے ساتھ تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کرتی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ضلع حویلی : محکمہ جنگلات نے یونین کونسل بھیڈی میں شہری کا مکان مسمار کر دیا
ان کی طبابت میں سنجیدگی اور پیشہ ورانہ ترتیب پائی جاتی ہےجو کسی منظم سائنسی ذہن کی پہچان ہوتی ہے ۔
اِن کی شخصیت کی ایک منفرد جہت اپنی مٹی سے محبت ہےیہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے حویلی کے لوگوں سےاپنا رشتہ محض فرض کی حد تک نہیں رکھا بلکہ دل کی گہرائی اور پورے اعتماد سےنبھانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔
اور اُن لوگوں کے لیے زندہ مثال ہیں جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ حویلی میں کچھ ممکن نہیں ڈاکٹر عائشہ شبیر نے اِس تصور کو اپنی کارکردگی اور خدمت سے باطل ثابت کر دیا ہے ۔
اِن کی آمد سے زچگی کے دوران اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
خواتین میں طبی آگہی بڑھی ہےاور صحتِ مادر کے اعداد و شمار میں بہتری آئی ہےیہ تبدیلی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے اعتماد کی علامت ہےدرحقیقت ڈاکٹر عائشہ شبیر اس امر کی مظہر ہیں۔
کہ جب علم نظم اور ہمدردی ایک ہی رخ پر مجتمع ہو جائیں
تو زندگی خواب نہیں رہتی حقیقت بن جاتی ہے۔یقیناً اِن ساری خوبیوں کا کریڈٹ اِن کے والدین کو جاتا ہے جنہوں نے اچھی تربیت کی۔




