امریکا میں سزائے موت کے قیدی ٹرومین ووڈ کی سزا پر عمل درآمد سے چند منٹ قبل ہی اس کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔
ریاست اوکلاہوما کے ریپبلکن گورنر کیون اسٹِٹ نے پیرول بورڈ کی سفارش قبول کرتے ہوئے ٹرومین ووڈ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
یہ گورنر کیون اسٹٹ کے تقریباً سات سالہ دور میں صرف دوسری بار ہے کہ انہوں نے کسی قیدی کی سزا کم کی ہو۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب وپاکستان میں قیدیوں کا تبادلہ شروع،30اسیران منتقل
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی سپریم کورٹ نے ٹرومین ووڈ کے وکلا کی جانب سے سزائے موت رکوانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
46 سالہ ٹرومین ووڈ کو 2002 میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران ایک 19 سالہ لڑکی کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
مجرم کے وکلا نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ڈکیتی میں شامل تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اصل قاتل اس کا بھائی تھا جسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ 2019 میں جیل ہی میں انتقال کر گیا تھا۔
یاد رہے کہ عمومی طور پر سزائے موت کے مجرم عموماً آخری لمحے میں سعودی عرب میں بچتے ہیں کیونکہ وہاں عوامی اجتماع میں سرقلم کرکے سزائے موت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس، پاکستانی شہریت ترمیمی بل ،موت کی سزا ختم کرنے سمیت کئی بلز منظور
سعودی عرب میں جب کسی بھی مجرم کو سزا دی جاتی ہے تو آخری لمحے میں اگر وہ قاتل ہے تو مقتول کے رشتہ داروں کی موجودگی میں اسے سزا دی جاتی ہے۔
مقتول کے رشتہ داروں سے اس موقع پر معافی مانگی جاتی اگر وہ فی سبیل اللہ معاف کردیں تو آخری لمحے پر بھی سزائے موت معطل کردی جاتی ہے لیکن اگر معاف نہ کیا جائے تو حکومت کی طرف سے کوئی معافی نہیں ملتی




