اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینئر وکیل سپریم کورٹ ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے بطور رکن لاء اینڈ جسٹس کمیشن عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔
ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس پاکستان کو بجھوا دیا جس میں انہوں ںے کہا کہ میں ایسے ادارے کا رکن بن کر نہیں رہ سکتا جو قانون کی اصلاح کے وعدے پر قائم ہو مگر خود آزاد عدلیہ سے محروم ہو۔
استعفی کے متن میں کہا گیا ہے کہ آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی قانون اصلاح نہ ممکن ہے نہ مؤثر، ان حالات میں جاری رہنا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن،بھارت سمیت 7 ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں عائد
ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے مزید لکھا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے آزاد عدلیہ کا جہاز مکمل ڈبو دیا۔
انہوں نے اپنے استعفے میں شاعر مصطفیٰ زیدی کا شعر لکھا:
لٹ گئی شہر حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوحہ کہیے
انہوں نے اپنا استعفیٰ سربراہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن چیف جسٹس پاکستان کو بھیج دیا۔
اپنے استعفے کے حوالے سے مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ جب یہ ذمے داری قبول کی تو 26 ویں ترمیم ہو چکی تھی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کام کرنا خود کو دھوکا اور فریب دینے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔




