لاہور(کشمیر ڈیجیٹل) پنجاب حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی تمام جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے نام پر موجود تمام جائیدادوں اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کر کے 15 نومبر تک محکمہ داخلہ کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔
فیصلہ چیئرمین سب کیبنٹ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق کی زیرِ صدارت اجلاس میں کیا گیا جس کے بعد سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری کوآپریٹو اور دیگر متعلقہ محکموں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دیں۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اب اس کے تمام مالی و غیر مالی اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ عمل میں لایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے یا نرم کرنے کے لیے پہلے پنجاب حکومت نے اپنا حصہ پورا کیا ہے، اب وفاقی کابینہ سے بھی حتمی منظوری لی جائے گی۔ تاہم فی الحال کالعدم ٹی ایل پی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی چوتھی شیڈول کے تحت تمام پابندیاں برقرار ہیں۔
کالعدم ٹی ایل پی کو کب اور کیوں قرار دیا گیا؟
اپریل 2021 میں شدید احتجاج اور تشدد کے واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں، قیادت اور اثاثوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
پنجاب میں کالعدم ٹی ایل پی کی سرگرمیاں
پنجاب خاص طور پر لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں کالعدم ٹی ایل پی کی کافی سرگرمیاں رہی ہیں۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی کے نام پر قائم کسی بھی مدرسے، دفتر، دکان یا رہائشی جائیداد کو منجمد کیا جائے گا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ
پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم ٹی ایل پی سے وابستہ افراد یا جائیدادوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ رکھا جائے اور کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی دباؤ کام کرگیا، بھارت کا روس سے تیل خریداری سے انکار




