اسلام آباد، 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج دوپہر میں طلب کر لیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئینی ترامیم کی روشنی میں مختلف قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ اورائیر فورس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری متوقع ہے یہ ترامیم 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق کی جائیں گی تاکہ قانون میں ہم آہنگی قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اتفاق رائے کے بغیر 18ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی نہیں ہوگی:شہباز شریف
اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق قانونی معاملات کا جائزہ بھی لیا جائے گا اس کے علاوہ دیگرمتعلقہ قوانین میں ترمیم شدہ آئینی شقوں کی روشنی میں ترامیم کی منظوری دی جائیگی تاکہ آئینی اصلاحات کا عمل مؤثر اور جامع اندازمیں مکمل ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں آئینی اورقانونی ماہرین کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ تمام ترامیم شفاف اور قانونی دائرہ کار کے مطابق ہوں۔
اجلاس کے بعد آئینی ترامیم اور قوانین میں کی گئی تبدیلیوں کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم: بغاوت سے متعلق آرٹیکل 6 میں تبدیلی کا فیصلہ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور آئین میں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔
ترمیم کی حمایت میں 233 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت میں ووٹ دیا۔اس عمل کے بعد ترمیم کے حق اور مخالفت میں ووٹ کرنے والے ارکان باری باری ایوان سے باہر گئے۔




