منوڑہ

کراچی:میڈیکل یونیورسٹی کے 5 طلباء سمندرمیں ڈوب گئے، 3 لاشیں نکال لیں

کراچی (کشمیر ڈیجیٹل) منوڑہ کے مقام پر سمندر میں نہاتے ہوئے میڈیکل یونیورسٹی کے 5 طالبعلم ڈوب گئے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکاروں نے ان کی تلاش شروع کردی جن میں سے 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔

پولیس نے بتایا کہ ڈوبنے والے ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس ہیں، اسٹوڈنٹس کا گروپ سمندر پر پکنک کی غرض سے آیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ افسوسناک واقعے میں 3 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوئے، تینوں افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

، دو افراد کو تشویشناک حالت میں نکالا گیا، جاں بحق ہونے والوں کی شناخت شارب، اشہد عباس اور احمد کے نام سے ہوئی۔

پولیس کے مطابق واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 25 سے 28 سال کے درمیان ہیں

2 افراد کو فوری امدادی کارروائی کے دوران زندہ بچا لیا گیا، تاہم دونوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے

، مجید اور رضوان کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دینے جارہے ہیں،بلاول بھٹو زرداری

ڈی 26 بیج کے تقریبا 150 طالبہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ کے ہمراہ سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ اور اپنے پوائنٹ بسوں میں ہاکس بے پکنک پر گئے تھے اور تمام طالبہ پکنک پربحفاظت واپس آگئے اورتمام طلبہ محفوظ ہیں۔

تقریباً2 بجے کے قریب اطلاع ملی کہ کچھ طالب علموں کے ساتھ افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے معلوم کرنے پرعلم ہوا کہ فائنل ایئرکے ہی 15طالب علموں نے اپنے اورذاتی طورپرانتظامیہ کی اجازت لیے بغیرمنوڑہ ہمالیہ کے مقام پرپکنک پرگئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ذاتی طورپر 15 طالب علم پکنک پرگئے تھے جن میں سے 3 طالب علموں کی میتیں ہمیں موصول ہوئی ہیں 2 طالب علم سول ٹراما کی ایمرجنسی اورایک طالب علم میڈیکل آئی سی یومیں زیرعلاج ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک طالب علم لا پتہ ہے جس کی تلاش کی جا رہی ہے، باہرڈاؤمیڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر صبا سہیل کو سول ٹراما سینٹر کی ایمرجنسی میں موجود طالب علموں نے بتایا ہے کہ وہ بیچ پر بال سے کھیل رہے تھے،

بال اچھالنے پر گیند سمندرکی لہروں کے ساتھ چلی گئی جیسے لینے کے لیے ایک طالب علم گیا تو تیز اور اونچی لہروں نذرہوگیا، باقی طالب علم اسے بچانے کے لیے حادثے کا شکار ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ حادثے میں ایک طالب علم کے علاوہ جاں بحق اوردیگرمتاثرہ تمام طالب علموں کے اہلخانہ سے رابطہ ہو گیا ہے۔

میڈیکل آئی سی یو میں زیر علاج طالب علم عبدالمجید کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اب تک ان سے رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے،ڈاؤمیڈیکل کالج کی پرنسپل نے واقعےکو بڑا سانحہ اور ایک سیاہ دن قراردیا۔

ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹرخالد بخاری نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق تین طالب علموں کی میتیں سول ٹراما سینٹر لائی گئیں تھی جبکہ تین 3 متاثرہ طالب علموں کولایا گیا تھا جن میں سے 2 طالب علموں کی حالت خطرے سے باہر اورایک طالب علم کی حالت تشویشناک ہے۔

Scroll to Top