استنبول:ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے سینئر عہدیداروں کے خلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق استنبول کے پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر 37 اسرائیلی عہدیداروں کے نام فہرست میں شامل ہیں جن میں وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز، قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر اور فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حکام نے غزہ میں منظم انداز میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو غزہ میں فوری اور طاقتور حملوں کا حکم
ترک پراسیکیوٹر کے دفتر نے اپنے بیان میں ’ترک فلسطینی دوستی اسپتال’ کا بھی حوالہ دیا۔ یہ غزہ میں ترکیے کا تعمیر کردہ ایک اسپتال تھا جسے مارچ میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ترکیہ نے گزشتہ سال جنوبی افریقا کے اُس مقدمے میں بھی بطور فریق شمولیت اختیار کی تھی جو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کے تحت دائر کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم ودہشتگردی کا سلسلہ جاری رہاجس میں 70ہزار فلسطینی شہید ہوئے جبکہ پونے دو لاکھ افراد زخمی ہوئے ، سیکڑوں افراد نے قحط کی وجہ سے دم توڑا۔
گزشتہ ماہ جنگ بندی ہوئی اس کے باوجود اسرائیل غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے جس میں مزید سیکڑوں افراد شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی فورسز جنگ بندی ہونے کے باوجود امداد داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے اقوام متحدہ سے غزہ میں عالمی فوج کی تعیناتی کیلئے منظوری مانگ لی




