دہری شہریت

دہری شہریت یا ملازمت ،سرکاری ملازمین کیلئے نیا آرٹیکل لانے کی تجویز

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سرکاری ملازم کو دہری شہریت یا ملازمت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، 27 ویں ترمیم کے ذریعے نیا آرٹیکل لانے کی تجویز دیدی ۔۔

نجی ٹی وی کے مطابق نئی شق کے ذریعے دہری شہریت والے سرکاری ملازمین کا گھیرا تنگ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے زیادہ تر ارکان ترمیم کے حق میں ہیں۔پبلک آفس ہولڈر دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو سول سرونٹ کیوں رکھے؟

حکومتی مؤقف، پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے زیادہ تر ارکان ترمیم کے حق میں ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نیا آرٹیکل لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ترمیم کے تحت سرکاری ملازمین کو دہری شہریت یا ملازمت میں ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پیپلزپارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مجوزہ ترمیم پر غور جاری ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پرکشمیریوں کیخلاف پروپیگنڈہ حقائق کے منافی:وفاقی وزراء

ذرائع نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ پبلک آفس ہولڈر دہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو سول سرونٹ کیوں رکھے؟

مجوزہ ترمیم کیلئے حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63 ون سی کا حوالہ دیا۔ذرائع نے بتایاکہ آرٹیکل 63کے مطابق دہری شہریت رکھنے والا پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہ سکتا

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری شروع کردی ،آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیئے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔

مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا معاملہ بھی شامل ہے، ايگزيکٹو کی مجسٹریل پاور کی ڈسٹرکٹ لیول پر ترسیل بھی مجوزہ ترمیم میں شامل ہوگی۔

اس کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا ہونا بھی ستائيسویں ترمیم کی تیاری میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل آئندہ ہفتے منظور کیا جائےگا۔

Scroll to Top