مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آج دکھی دل سے یہ بات کررہا ہوں کہ ہماری ریاست کا جتنا نقصان ہوچکا اسے ریکور کرتے ہوئے کافی وقت درکار ہے ۔
ریاست افراتفری کا شکارہے ، حکومتی رٹ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ان خیالات کا اظہار سابق چیئرمین پی ڈی اے سردار ارشد نیازی نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سید ابرار حیدر سے گفتگو میں کیا ۔
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ بیان مرصوص میں کامیابی کے بعد آزادکشمیر میں انتشار کی سیاست دیکھ کر بھارتی وزیردفاع کا یہ بیان کہ آزادکشمیر پر حملے کی ضرورت نہیں تمام سیاسی قیادت ، ریاست میں رہنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔۔
سردار ارشد نیازی نے کہا کہ بھارت نے آزادکشمیر پر دو میزائل داغے جس کے جواب میں فیلڈ مارشل اور افواج پاکستان، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ بھارت سمیت دنیا آج پاکستان اور فیلڈ مارشل کی کامیاب کے گن گارہی ہے ۔
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے جانے کے بعد آزادکشمیر میں سیاسی تربیت کا فقدان پایا گیا ، بدقسمتی سے لوگوں کی سیاسی تربیت نہ ہوسکی ، سیاسی قیادت کی اپنی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے آج ریاست انتشار کا شکار ہے ۔ ہم نے ملکر ریاستی جماعت کو کمزور کیا۔
آج کشمیری سیاستدان کبھی لاڑکانہ اور کبھی بلاول ہاوس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں، ارشد نیازی
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ سردار عتیق خان کیخلاف سیاسی قیادت نے ایسے فیصلے کیئے جس سے ریاست کو نقصان ہوا ۔ آج ریاستی سیاستدانوں کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ وہ کبھی لاڑکانہ میں حاضری دیتے ہیں تو کبھی فریال تالپور کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو کبھی بلاول ہاوس کے چکر کاٹتے ہیں،مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت بھی قابل رحم ، حالت یہ ہوچکی ہے کہ سربراہ مسلم لیگ ن میاں نوازشریف نے ابھی تک مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر کو ملاقات تک کا ٹائم نہیں دیا ۔یہ وہ غلطیاں ہیں جس سے آج ریاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے ۔
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ آج بھی بھارت نواز کشمیری سیاسی جماعتیں مقبوضہ کشمیر میں مضبوط ہیں اور وہ سیاسی کردار ادا کررہی ہیں لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے اس جماعت کا گلہ گھونٹ دیا جس کے سائے تلے ہم نے آزادی کی نعمت حاصل کی ۔
کیا ہمارے آبائو اجداد نے آٹے دال چینی اور بجلی پر سبسڈی کیلئے قربانیاں دے کر اس ریاست کو آزاد کروایا ۔
ایسا نہیںہے بلکہ یہ ریاست دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تشکیل دی گئی جس کا خواب سید علی گیلانی نے دیکھا اور آخری وقت تک ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کا نعرہ لگاتے رہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کی تشکیل کا مقصد کچھ اور تھا جس کیلئے آج آسیہ اندرابی سمیت متعدد خواتین جیل کاٹ رہی ہیں۔
بطل حریت یٰسین ملک ، شبیر احمد شاہ سمیت ہزاروں کشمیری جیل میں صعوبتیں کاٹ رہے ہیں۔ حریت کانفرنس کے رہنما دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ہمارے سیاستدان اپنے اقتدار کے طول کیلئے سیاسی حرکاروں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی دس دن شہر بند رکھنے کے بعد کیا لے کر آئی؟ راولاکوٹ ایکشن کمیٹی سے سوال کرتا ہوں کیا کارڈیک سنٹر کا اعلان ہوا؟
کیا چیک ہسپتال جہاں رکا تھا وہ معاہدہ میں شامل ہے؟ کیا راولاکوٹ میں پانی کی قلت کے حوالے سے کچھ اس معاہدے میں شامل ہے؟
اگر نہیں تو آپ راولاکوٹ کیلئے کیا لے کر آئے؟ جتھوں کی عمر کوئی زیادہ نہیں ہوتی۔حکمت عملی میں آزادکشمیر حکومت سے بھی غلطی ہوئی ، ہمارے سیاستدانوں اور ضلعی انتظامیہ سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔
ہمارے سیاستدانوں اور حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کو اعتماد میں نہیںلیا اور بلدیاتی نمائندے بڑی اسمبلی کی طرح عوامی منتخب نمائندے ہوتے ہیں ان کی بھی چھوٹی اسمبلی بنتی ہے جو عوامی حقوق کے محافظ ہوتے ہیں اگر آپ عوامی نمائندوں کی بات نہیں سنیں گے تو پھر جب جتھوں سے بات کریں گے تو انجام وہی ہوگا۔۔
آزادکشمیر میں جھتے جب مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو عالمی سطح پر آپ مسئلہ کشمیر سے دستبرداری کا اعلان کررہے ہیں ۔ آپ نے مہاجرین کو کیا دیا۔ جب ریاست جتھوں نے چلانی ہے تو پھر اس پراسس کی کیا ضرورت ہے ۔آپ عدم اعتماد کی تحریک کیوں لا رہے ہیں ریاست کو جتھوں کے حوالے کیوں نہیں کردیتے ۔ عبدالماجد خان کے داد جب ہجرت کرکے آزادکشمیر آئے تو وہ اس وقت ڈپٹی کمشنر تھے ۔
بھارت شوکت کشمیری کو اسمبلی میں نشست دینا چاہتا ہے ، سردار ارشد نیازی کا دعویٰ
آج شوکت علی کشمیری یوکے پی این پی کاجو سربراہ ہے آپ کو نہیں علم کہ اس کی میٹنگیں کس کےساتھ ہو رہی ہیں۔یہ باتیں بھی چل رہی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں اسے نشست دینا چاہتا ہے ۔ا ور ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو ہم اپنے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔
بیس کیمپ کی تشکیل آٹا، دالیں،چینی ،بجلی سستی کرنے کیلئے تشکیل نہیں دیا گیا: ارشد نیازی
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ جتھوں کے کہنے پر حکومت انہیں دو روپے تین روپے بجلی دے اور پاکستان خود 17 روپے بجلی خریدے ، پاکستان آئی ایم ایف سے 70 روپے بجلی خرید کر جھتے کو 2 اور تین روپے بجلی فروخت کرے ۔ پاکستان کروڑوں روپے ہمیں فنڈز جاری کرے اور پھر ہم اس کیخلاف نعرے بازی کریں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان محافظ فوج ہے اور ہندوستان قابض فوج ہے ۔
سردار ارشد نیازی کا کہنا تھا کہ 2019 کے اقدام کےبعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہندووں کی آبادکاری شروع کردی اور آج بھی کوئی پاکستانی آزادکشمیر میں زمین نہیں خرید سکتا ہے اور ہم پاکستان کے دل میں سنٹورس بنا کر بیٹھے ہیں۔
کتنے کورکمانڈرز ، جنرلز پاک فوج میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ، ہماری مسلح افواج میں ہزاروں کشمیری نوجوان اپنی سرحدوں کا دفاع کررہے ہیں۔ہمارے آبائو اجداد نے اس بیس کیمپ کو اس لئے آزادکروایا تھا کہ پار کے کشمیریوں کو ہم نے آزادکروانا ہے جبکہ ہم کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے درپےہیں ۔
آپ نے نظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کیا، سردار ارشد نیازی کا شوکت نواز میر کو چیلنج
سردار ارشد نیازی کا مزید کہنا تھا کہ شوکت نواز میر صاحب آپ نے نظریہ پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کو کمزور کیا۔ میرے سامنے آکر اس بات کی وضاحت کریں کہ آپ کے کونسے گارنٹرز ہیں جنہوں نے آپ کو گارنٹی دی ہے کیا وہ بھارت کے ہیں ، افغانستان کے ہیں چین کے کس ملک کے ہیں یا وہ گارنٹرز ہیں جن کی وجہ سے ہمیں آپ سہولت کار کہہ رہے ہیں۔
شوکت نواز میر کو اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ ہم کس کے سہولت کار ہیں اور آپ کےکون گارنٹر ہیں میں دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے چیلنج کو قبول کریں۔
اس طرح ریاست کو کمزور کیا گیا ، نظریہ الحاق پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی ، اس کے ذمہ دار اکیلے انوارالحق نہیں ہیں۔ اس میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن برابر کے شریک ہیں جنہوں نے الحاق پاکستان کے نظریہ کو کمزور کیا۔
وزیراعظم انوارالحق اسمبلی تحلیل کرکے فوری الیکشن کا اعلان کریں: ارشد نیازی
سردار ارشدنیازی کا کہنا تھا کہ انوارالحق کےخلاف عدم اعتماد تحریک نہیں آنی چاہیے قبل از وقت الیکشن کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام اپنے منتخب نمائندے چن کر نئی دور کا آغاز کرے ۔ عوامی ایکشن کمیٹی والوں کو یہی نہیں علم کہ آزادکشمیر کے پرچم میں پاکستان کا رنگ اور مسلم کانفرنس کا جھنڈا شامل ہے ۔ میں یہ بات وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ آئیں اور اسی جھنڈے کے تلے الیکشن میں حصہ لیں عوامی مینڈیٹ لیں ۔ اسمبلی میں بیٹھیں اور پھر جو ترامیم کروانا چاہیں کریں ۔اس انتشار کے خاتمے کا واحد حل بھی یہی ہے اور وزیراعظم آزادکشمیر اسمبلی تحلیل کریں اور قبل از وقت الیکشن کا اعلان کریں۔
سردار عتیق احمد خان بڑا ویژنری سیاستدان، قومی قیادت کے اہل ہیں، سردار ارشد نیازی
سردار اشد نیازی کا کہنا تھا کہ آج میں رنجیدہ ہوں کہ مجاہد اول سردار عبدالقیوم کے بیٹے اور میرے استاد محترم سردار عتیق احمد خان کو بھی گالیاں پڑیں۔ میری سیاست میں حسن ابراہیم کیساتھ شدید سیاسی جنگ ہے ۔ان دونوں بھائیوں پر فائرنگ ہوئی۔ راجہ فاروق حیدر کا ایک مقام ہے ان کے خاندان کی قومی خدمات ہیں ان کو کتنا برا بلا کہا جارہا ہے، بیرسٹر سلطان محمود آج بیمار ہیں انہیں بھی نہیں بخشا گیا۔
سردار عتیق احمد خان بڑا ویژنری سیاستدان ہیں ۔ اگر ہم مل بیٹھ کر سوچیں تو ہمیں بہترین سیاسی قیادت میسر آسکتی ہے ۔ جن میں سردار عتیق احمد خان، راجہ فاروق حیدر خان سمیت اہم نام موجود ہیں ۔ ہمیں اپنی غلطیوں کا نہ صرف ازالہ کرنا ہوگا بلکہ ان غلطیوں کا کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ تب جا کر ہم ایک قوم بن سکیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریاست کی بحالی ہمارا مشن،اقتدار ہماری منزل نہیں، فاروق حیدر




