نیویارک مئیر الیکشن پر دنیا کی نظریں، ظہران ممدانی کی مقبولیت میں اضافہ

نیویارک: امریکی تاریخ میں پہلی بار نیویارک مئیر کے الیکشن پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ اس اہم انتخاب میں ڈیموکریٹک اور مسلم امیدوار ظہران ممدانی کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو سے ہو رہا ہے۔

پولنگ سے قبل ظہران ممدانی نے اپنے حامیوں کے ہمراہ بروکلین بریج سے سٹی ہال تک مارچ کیا، جس میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ممدانی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح نیویارک میں رہائش کے بڑھتے اخراجات کو کم کرنا ہے۔ ممدانی نے ریلی کے دوران شہریوں سے ووٹ دینے کی اپیل بھی کی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کی مخالفت کے باوجود پہلی بار ایک مسلم امیدوار کے نیویارک کا مئیر بننے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکا میں صرف نیویارک ہی نہیں بلکہ ریاست ورجینیا اور نیوجرسی میں بھی آج گورنر کے اہم انتخابات ہو رہے ہیں۔ ورجینیا میں ڈیموکریٹک امیدوار غزالہ ہاشمی لیفٹینینٹ گورنر کے لیے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ وہ اس ریاست کی پہلی مسلم اور جنوبی ایشیائی امریکن خاتون سینیٹر ہیں اور اگر کامیاب ہوئیں تو بطور مسلم خاتون لیفٹینینٹ گورنر تاریخ رقم کریں گی۔ ان کے شوہر اظہر کا تعلق کراچی سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زہران ممدانی کے میئر بننے پرٹرمپ نے نیویارک کے فنڈزروکنے کا انتباہ دیدیا

ورجینیا ہی میں ڈیموکریٹک امیدوار ایبی گیل اسپین برجر کا مقابلہ ری پبلکن لیفٹینینٹ گورنر وینسم ارل سیئرز سے ہے۔ یہ انتخاب بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جیتنے والی امیدوار ریاست کی پہلی خاتون گورنر ہوں گی۔

اسی طرح نیوجرسی میں ڈیموکریٹک رہنما مائیکی شیریل کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار اور سابق رکن اسمبلی جیک چیٹاریلی سے ہے۔ سروے رپورٹس کے مطابق نیوجرسی میں سخت مقابلہ متوقع ہے تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کو مائیکی شیریل کی کامیابی کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کی میئرشپ کے امیدوارزہران ممدانی کو سابق امریکی صدر کی حمایت مل گئی

کیلیفورنیا میں بھی ووٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ آئندہ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مستحکم ہوگی یا ری پبلکنز کی۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا ہے کہ پروپوزیشن ففٹی کے لیے ووٹ ایک واضح پیغام ہوگا کہ کانگریس کے انتخابات میں حلقہ بندی کس انداز سے کی جانی چاہیے۔ نیوسم نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ پہلے دور صدارت کی نسبت اب زیادہ غیر مقبول ہیں اور مڈٹرم الیکشنز میں ری پبلکنز کو شکست ہوگی۔

امریکا کی بیشتر ریاستوں میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہوگی جبکہ بعض میں یہ عمل صبح 5 یا 10 بجے سے شروع کیا جائے گا۔

Scroll to Top