جامعہ کشمیر مظفرآباد طلبہ کا احتجاج، چہلہ کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)جامعہ کشمیر کے چہلہ کیمپس میں طلبہ تعلیمی سہولیات کے فقدان، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور انتظامی بے حسی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ طلبہ نے احتجاجاً چہلہ کیمپس کا مرکزی دروازہ بند کر دیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

احتجاج کے باعث کیمپس میں تدریسی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جامعہ میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے بلکہ بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی بھی انتہائی ناقص ہے۔ طلبہ کے مطابق یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں کلاسز کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے، جبکہ انتظامیہ ان شکایات پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

طلبہ نے کہا کہ بارہا نشاندہی کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا، جس سے ان کا تعلیمی سفر متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ ان کے مطالبات برحق ہیں، اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے تاکہ تعلیمی عمل بحال ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد ہفتے میں پیش کردی جائیگی، میاں وحید

طلبہ نمائندگان کے مطابق، آئندہ کا لائحہ عمل آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں طے کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں مختلف طلبہ تنظیموں اور نمائندوں کی مشاورت سے آئندہ حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: استنبول میں غزہ پر مشاورتی اجلاس،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ترکیہ روانہ ہوں گے

اس موقع پر طلبہ نے 13 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا، جس میں بس فیس کا خاتمہ، ڈراپ طلبہ کے معاملات پر نظرِ ثانی، بسوں کی فراہمی اور فیسوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ طلبہ نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری اقدامات کرے تاکہ طلبہ کی مشکلات کم ہوں اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جا سکیں۔

Scroll to Top