تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے اپنے تمام جنگجو گروپوں کو قبائلی علاقوں سے فوری طور پرواپس افغانستان جانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ ہدایات مفتی نور ولی اور افغان سرزمین پر موجود سینئر قیادت کی طرف سے جاری ہوئیں جنہیں تین سطحوں پر منظم انداز میں پھیلایا گیا
مرکزی قیادت سے علاقائی کمانڈرز تک اور وہاں سے مقامی جنگجوؤں تک پیغامات فیس بک میسنجر، پرنٹ پمفلٹس اور مخصوص مخبرنیٹ ورکس کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ تمام گروپس کو واضح اور یکساں ہدایت ملے۔
ہر گروپ کو چھوٹے یونٹس میں تبدیل ہو کر انہی راستوں سے افغانستان لوٹنے کی ہدایت دی گئی ہے، جن راستوں سے وہ پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
علاقائی کمانڈر ملا سعید انار جیسے افراد کے ذریعے پیغام کی توثیق کی گئی اور اسے وزیرستان و دیگر حساس علاقوں میں پھیلایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:باجوڑمیں پاک افغان سرحد پر خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک
مقامی سطح پر ریکارڈ شدہ آوازوں کے ذریعے جنگجوؤں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر قسم کی کارروائی فوری بند کریں، پہلے سے طے شدہ حملے ملتوی کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ یا افواہی پیغام پر عمل نہ کریں۔
انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ اگلا حکم صرف مرکزی امیر کی طرف سے افغانستان پہنچنے کے بعد جاری ہوگا۔
تمام پیغامات پشتو میں بسم اللہ اور مخصوص فقروں کے ساتھ جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ گروپس کے اندر اعتماد اور قیادت کا کنٹرول برقرار رہے۔
ٹی ٹی پی کی یہ پسپائی بظاہر جنگ بندی اور پاکستان کے حالیہ فوجی دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے جس میں پاکستان نے کابل حکومت پر سخت موقف اپنایا اور افغان سرزمین سے حملوں کا سخت جواب دیا لیکن یہ قدم مکمل شکست نہیں بلکہ ’’ری گروپنگ‘‘ کا آغاز ہے، جس میں گروپس کو وقتی طور پر منتشر کر کے دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
افغان حکومت کا اس سارے عمل میں خاموش کردار اور افغان سرزمین سے احکامات کی ترسیل، یہ واضح کرتا ہے کہ افغان طالبان نہ صرف واقف ہیں بلکہ کنٹرول بھی رکھتے ہیں۔




