باغ پولیس نے اندھے قتل کا سراغ لگالیا، سسر اور بیوی گرفتار، اعتراف جرم

باغ (کشمیر ڈیجیٹل )عبدالشمید قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم منشاد ساکنہ بھیڈی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ اس نے جولائی 2025 میں عبدالشمید کو قتل کیا اور لاش زمین میں دفن کردی تھی۔

تحقیقات کے مطابق مقتول عبدالشمید بحرین سے واپسی کے بعد اپنی اہلیہ — جو منشاد کی بیٹی ہیں — کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ملزم کے بیان کے مطابق مقتول کی دوسری شادی اس اقدام کی وجہ بنی۔ منشاد نے مزید بتایا کہ جب اسے پولیس کی کارروائی کا خدشہ ہوا تو اس نے لاش کو دوبارہ نکال کر نالے میں پھینک دیا۔

ورثاء نے عبدالشمید کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ باغ میں درج کرائی گئی اس کیس کی تحقیقات کیلئے ایس پی باغ ریاض مغل کی سربراہی میں ایک جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (JIT) تشکیل دی گئی، جس میں ڈی ایس پی سردار طارق، ایس ایچ او امجد ساقی اور تفتیشی آفیسر اشتیاق عباسی شامل تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد ملزم منشاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قتل میں کسی اور کی شمولیت کے امکانات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔

مقتول کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو میں پولیس ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایس پی باغ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل نہ دی جاتی تو شاید کیس کی گتھی سلجھ نہ پاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور واقعے کے محرکات و ممکنہ معاونین کی تفصیلات جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

عبدالشمید کے اندھے قتل کا معمہ بھی حل، باغ پولیس نے قتل کے الزام میں اس کے سسر اور بیٹی (عبدالشمیدکی بیوی)کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی۔قتل کے بعد نعش کو بھیڈی ضلع حویلی اپنے گھر کے صحن میں دفنایا گیا۔

بعد ازاں تقریبا دو ماہ بعد نعش کو نکال کر بریف کیس میں بند کر کے سنی کس نالہ میں شاپر میں بند کر کے پھینک دی۔عبدالشمید پاکستان آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد بحرین آرمی میں ملازم تھا اور چھٹی پر 4 ماہ پہلے پاکستان آیا،

زرائع کے مطابق ملزم منشاد ساکنہ بھیڈی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے عبدالشمید کو بحرین سے واپسی پر 3 ماہ قبل جولائی میں بھیڈی لے جاکر قتل کیا اور نعش وہی زمین میں دبا دی تھی ۔

عبدالشمید نے میری بیٹی سے شادی کے بعد ایک اور شادی کی تھی جسکی وجہ سے میں نے یہ اقدام اٹھایا۔ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب پولیس کا تحقیقاتی شکنجہ اپنے قریب آتے دیکھا تو اس نے نعش گھڑے سے نکال کر نالے میں پھینک دی ۔۔

تفصیلات کے مطابق عبدالشمید کی گمشدگی کی رپوٹ جب تھانہ باغ میں درج کی گئی تب ورثاء نے سسرالیوں پر عبدالشمید کے اغواء کا شعبہ ظاہر کیا تھا جس پر تحقیقات کیلئے ایس پی باغ ریاض مغل نے ایک جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم ڈی ایس پی سردار طارق ایس ایچ او امجد ساقی تفتیشی آفیسر اشتیاق عباسی پر مشتمل تشکیل دی تھی جنہوں نے قتل کاسراغ لگالیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول کے سسر منشاد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم نے نعش کو گڑھے میں چھپا دیا گیا تھا

مگر پھر جب پولیس کو قریب پہنچتا دیکھ کر قاتل نے گرفتاری کے خوف سےنعش کو لاکر سنی کس نالے میں پھینک دیا۔۔ پولیس مزید تحقیق کررہی ہے کے آخر سفاک قاتل نے یہ سب کیوں اور کس کے ساتھ مل کرکیا؟؟

دوسری طرف عبدالشمید کے بھائی کا کہنا ہے کہ مجھے پولیس پر مکمل اعتماد ہے اگر ایس پی باغ ریاض مغل نہ ہوتے یا یہ ٹیم تشکیل نہ دیتے تو شائد کبھی میرے بھائی کا قاتل قانون کے شکنجے میں نہ آتا۔مقتول کے بھائی نے قتل میں ملوث تمام کرداروں کا بے نقاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس وقت ڈیڈ باڈی ڈسٹرکٹ ہسپتال میں موجود ہے جہاں پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل ہو چکا پولیس نے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا اور مختلف ذرائع سے معلومات کا حصول بھی جاری ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ پورے علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث ہے جبکہ شہری انصاف کے لیے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی ، اسرا فاؤنڈیشن کے تحت ایمبولینس سروس کا آغاز

Scroll to Top