چنیوٹ :جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی حمایت کردی اور کہا کہ ہم پاکستان کےساتھ ہیں۔
چنیوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، دہشتگردوں کے خلاف طاقت کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہیے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ افغانستان سے کالعدم تحریک طالبان کے لوگ پاکستان میں آکر دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں حالات انتہائی خراب ہیں اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔
پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کو بات چیت کےذریعےحل کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے مشورہ دیا کہ پاک افغان کشیدگی کوبات چیت کےذریعےحل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغان سرزمین سے دہشتگردی برداشت نہیں کرے گا: فیلڈ مارشل عاصم منیر
یاد رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگرد آئے روز خیبرپختونخوا میں کارروائیاں کررہے ہیں اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز بھی روزانہ کئی دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ روز کی گئی کارروائی میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا نائب ہلاک ہوا تھا جس کی کالعدم تنظیم کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں 4 خوارج ہلاک ہوئے جن میں ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی رہنما امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا جو خارجی نور ولی کا نائب تھا اور افغانستان میں رہ کر پاکستان میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک خارجی سرغنہ بھارتی آلہ کارتنظیم فتنہ الخوارج کی رہبری شوریٰ کا سربراہ تھا، خارجی سرغنہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا اور حکومت نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔




