فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کیلئے ایک کروڑ تک کے بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد:حکومت نے اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کے لیے 250 مشترکہ ورکنگ مراکز قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا، جن میں سے 40 مراکز جون2026تک مکمل کیے جا چکے ہیں۔

وزارتِ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے رواں مالی سال میں 47 مشترکہ ورکنگ مراکز قائم کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے، جن میں سے 40 مراکز جون2026تک مکمل کیے جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق فروری 2027 تک ملک بھر میں 250 مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ نے اس منصوبے کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں، جس میں پبلک اور پرائیویٹ ادارے مشترکہ ورکنگ مراکز کے قیام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی ایس سی او میجر جنرل عمر احمد شاہ کا بڑا اقدام،گڑھی دوپٹہ، دھیرکوٹ میں فری لانسنگ ہبز کا افتتاح

یہ منصوبہ وزیراعظم کے اسٹارٹ اپ سپورٹ پروگرام کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس کو جدید سہولیات اور نیٹ ورکنگ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

پارٹنر بینکوں کے ذریعے ایک کروڑ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا، منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس میں حکومت اور نجی شعبہ مل کر ٹرینرز کی فیس ادا کریں گے۔

بڑے شہروں میں مراکز تقریباً 3 ہزار 500 مربع فٹ پر مشتمل ہوں گےجبکہ چھوٹے شہروں میں تربیت اور کاروباری رہنمائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

نیشنل مشترکہ ورکنگ مراکز کے قیام سے ملک میں ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

Scroll to Top