حویلی فارورڈ کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل) نایاب نسل کے مارخور کے بچے کی بروقت حفاظت—سید شہزاد کاظمی و برادران کی مثالی دیانت داری
حویلی کہوٹہ کے گاؤں بساہاں شرہف میں ایک حیران کن اور نایاب واقعہ پیش آیا، جہاں ایک جنگلی مارخور کا بچہ اچانک گاؤں کی بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ گاوں میں آدھمکا ۔
مارخور، جو پاکستان کے قومی جانوروں میں شمار ہوتا ہے اور ایک نایاب جنگلی نسل ہے، عام طور پر بلند پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا گاؤں کے اندر آ جانا علاقہ مکینوں کیلئے ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔
مقامی افراد میں سے سید شہزاد کاظمی، ظفر کاظمی اور ان کے برادران نے نہایت فہم و فراست اور ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف حویلی کو اطلاع دی۔
اطلاع ملتے ہی فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف سید امتیاز حسین شیرازی اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جہاں ان کی ٹیم نے مارخور کے بچے کا معائنہ کیا اور اسے حفاظت کے ساتھ اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس موقع پر سید مظفر حسین کاظمی، سید شاہ حسن گیلانی، سید شہزاد کاظمی، ظفر کاظمی اور دیگر مقامی شخصیات بھی موجود تھیں۔
مذکورہ افراد نے وائلڈ لائف ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور بچے کو قدرتی ماحول میں بحفاظت واپس پہنچانے کے عمل میں مدد فراہم کی۔
علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹی اور عوام علاقہ نے سید شہزاد کاظمی اور ان کے جملہ برادران کو خراجِ تحسین پیش کیا
عوام علاقہ کا کہنا تھا کہ ان کا یہ عمل ایک قابلِ تقلید مثال ہے جو عوام میں جنگلی حیات کے تحفظ کے شعور کو فروغ دیتا ہے۔
عوام نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مارخور کے بچے کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر کے اس کی مناسب دیکھ بھال اور نگرانی کی جائے تاکہ اس کی جان محفوظ رہ سکے۔
اس موقع پر فارسٹ آفیسر سید امتیاز حسین شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ وائلڈ لائف جنگلی جانوروں، خصوصاً نایاب نسلوں کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی شمولیت سے ہی قدرتی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور سید شہزاد کاظمی و برادران کا یہ عمل پوری کمیونٹی کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر شہری ذمہ داری اور دیانت داری سے کام لیں تو جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کے توازن کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں بینک کی وائی فائی آئی ڈی’پاکستان زندہ باد‘ میں تبدیل، پولیس اور انتظامیہ میں کھلبلی




