نیویارک:مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ اظہار یکجہتی اورتنازعہ کشمیر کو اجاگرکرنے کیلئے نیویارک شہر میں ڈیجیٹل موبائل ٹرک چلائے گئے جن پر درج پیغامات میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔
ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے زیر اہتمام اس مہم کے تحت ڈیجیٹل ٹرک اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر اور ٹائمز اسکوائر سے بھی گزرے۔
یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت عالمی برادری کو اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری یاد دلانے کی ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا تعین خودکرنے کے کشمیری عوام کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔
ڈیجیٹل سکرینوں سے ”بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ ختم کرے ”،”کشمیر میں جنگی جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے”، ”اقوام متحدہ کی قراردادیں مسئلے کا واحد حل ہیں” اور”کشمیری بھارتی قبضے کو مسترد کرتے ہیں”جیسے پیغام دکھائے گئے ۔
ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میرنے اس موقع پر کہا کہ یہ تارکین وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے پرامن اور جائز جدوجہد جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست فائٹر قرار دیا
انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے کئی دہائیوں سے مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے اور بے شمارجانیں قربان کی جاچکی ہیں۔
کشمیری اسکالر ڈاکٹر امتیاز خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیتی ہیں، اس کے باوجود بھارت نے بار بار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بھارت کے اس جھوٹے بیانیے کی مذمت کی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ انہوں نے اسے کشمیری تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش قراردیا ۔
ڈاکٹر فائی نے کہاکہ تنازعہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلے تک محدود کرنے سے سب سے اہم فریق خود کشمیری نظرانداز ہوجاتے ہیں۔




