استنبول مذاکرات ناکام، افغان وفد کی ہٹ دھرمی نے پیش رفت روکی

استنبول: پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے استنبول مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ افغان حکومت کے اندرونی اختلافات، ہٹ دھرمی اور بھارتی مداخلت نے عمل کو متاثر کیا۔

افغان وفد غیر منظم اور غیر سنجیدہ

قابل اعتماد ذرائع کے مطابق افغان وفد ابتدائی اجلاس سے ہی غیر متحد اور غیر سنجیدہ دکھائی دیا۔ وفد کو قندھار، کابل اور خوست سے مختلف اور متضاد ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ پاکستانی وفد نے ’ٹی ٹی پی‘ کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کی تحریری ضمانت کا مطالبہ کیا، جس پر قندھار گروپ نے آمادگی ظاہر کی۔ تاہم کابل دھڑے نے آخری لمحے میں نئی شرط رکھی کہ ’جب تک امریکا باقاعدہ ضامن کے طور پر شامل نہیں ہوتا، کوئی معاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

مذاکرات میں یوٹرنز اور انتشار

استنبول مذاکرات کے دوران افغان وفد میں شدید انتشار کے مناظر دیکھے گئے۔ ایک رکن ہاتھ سے لکھے پرچوں پر باہر بیٹھے ہدایت کار سے مشورے لیتا رہا، جبکہ دوسرا مسلسل کابل سے فون پر رابطے کرتا رہا۔ ہر فون کال کے بعد پہلے سے منظور شدہ نکات دوبارہ زیر غور لائے گئے، جس سے مذاکراتی عمل سست پڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق افغان وفد کا مقصد پیش رفت نہیں بلکہ مذاکرات کو مؤخر کرنا اور بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت، کو شامل کرانا تھا۔

امریکی ضامن کے مطالبے کا اصل مقصد

افغان وفد نے امریکا کو ضامن بنانے کا مطالبہ دراصل مالی فوائد کے حصول کے لیے کیا۔ ماہرین کے مطابق طالبان چاہتے ہیں کہ وہ امریکا کے ذریعے تعاون کا تاثر دیں تاکہ مالی امداد کے دروازے دوبارہ کھل سکیں۔ اس حکمتِ عملی کے تحت ’ٹی ٹی پی‘ کو مالی مفاد کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

ثالثین اور پاکستانی مؤقف

قطری اور ترک ثالثین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان کے مطالبات جائز اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہیں۔ ان کے مطابق افغان فریق کی رکاوٹ کی اصل وجہ داخلی غیر یقینی صورتحال اور کابل دھڑے کی مالی مفاد کی کوششیں ہیں۔ پاکستانی وفد نے تحمل مگر واضح انداز میں مؤقف پیش کیا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن اپنے عوام کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ افغان طالبان ’ٹی ٹی پی‘ اور ’بی ایل اے‘ کی سرپرستی ختم کریں اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

مذاکرات کی ناکامی اور آئندہ لائحہ عمل

استنبول مذاکرات تین دن تک جاری رہے۔ پہلا اجلاس 19 گھنٹے، دوسرا 11 گھنٹے اور تیسرا 18 گھنٹے تک چلا۔ پاکستانی وفد نے دہشتگرد ٹھکانوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے ثبوت پیش کیے، مگر افغان وفد نے بار بار یوٹرن لیا اور عملی اقدامات سے گریز کیا۔ آخری لمحے میں کابل سے رابطے کے بعد افغان وفد نے طے شدہ مسودے سے پیچھے ہٹ کر مذاکرات ناکام بنا دیے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت میں تبدیلی ضروری، مسلم لیگ ن پی پی کو ووٹ دے گی لیکن حکومت میں حصہ نہیں لے گی: احسن اقبال

پاکستان نے ثالثوں کی درخواست پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان حکومت کے داخلی اختلافات اور دہشتگردی کو سیاسی و مالی کرنسی کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک کابل اپنے اندرونی مسائل حل نہیں کرتا، ’استنبول مذاکرات‘ جیسے عمل سے حقیقی پیش رفت ممکن نہیں۔