اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ وزیرِاعظم چوہدری انوارالحق کی حمایت سے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، اسی لیے جماعت نے ان کی حمایت واپس لینے اور اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے چوہدری انوارالحق کو سیاسی استحکام کے لیے تعاون فراہم کیا ، مگر بدقسمتی سے ان کی حکومت نے کارکردگی دکھانے کے بجائے جماعت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ۔
ان کے بقول، ’’چوہدری انوارالحق باتیں بہت کرتے ہیں مگر کارکردگی صفر ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ آگے کس سمت جانا ہے ۔‘‘
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی اور ن لیگی ناراض کارکنوں کا آزادکشمیر میں نئی سیاسی جماعت کا مطالبہ زور پکڑ گیا
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے ۔
ان کے مطابق جماعت سمجھتی ہے کہ اس حمایت کے تسلسل سے ن لیگ کی سیاسی ساکھ متاثر ہو رہی تھی، اس لیے علیحدگی ناگزیر ہو گئی ۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں تحریکِ عدم اعتماد لانے کی منظوری دے دی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وہاں اپنی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اس فیصلے سے آزاد کشمیر کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور مستقبل قریب میں وہاں نئی سیاسی صف بندی کے امکانات واضح ہیں ۔




