مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ میں کی جانے والی 44 تقرریوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سلیکشن کمیٹی کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
ہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد رشید نے مقدمات شعیب خالد و دیگر بنام مجاز اتھارٹی و دیگر اور تیمور قیوم بنام مجاز اتھارٹی و دیگر میں فیصلہ سنایا۔ ان درخواستوں میں ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ میں کی گئی 44 تقرریوں اور تین ترقیوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تقرریاں اور ترقیاں پسند و ناپسند کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں اور متعلقہ رولز کے برعکس تھیں۔ مزید کہا گیا کہ جن قواعد کے تحت یہ بھرتیاں کی گئیں وہ آفیشل گزٹ میں شائع نہیں ہوئے تھے،
لہٰذا وہ قابلِ عمل نہیں ہو سکتے۔درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبل ازیں شعبہ آئی ٹی کی اسامیاں این ٹی ایس کو بھجوائی گئی تھیں، تاہم ہائی کورٹ نے خود تقرریاں کر دیں۔
عدالت نے تمام فریقین کے وکلا سے استفسار کیا کہ وہ پریس ریلیز کے بجائے کوئی تحریری وضاحت یا تردید پیش کریں، مگر کوئی بھی عدالت کو مطمئن نہ کر سکا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں سکیل ایک تا پانچ تک کی اُن ستائیس تقرریوں کو برقرار رکھا جنہیں چیلنج نہیں کیا گیا تھا، جبکہ باقی 44 تقرریاں اور تین ترقیاں کالعدم قرار دے دیں۔
مزید برآں، عدالت نے سلیکشن کمیٹی کے خلاف تین ماہ کے اندر انکوائری مکمل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے بجلی پیکج کا اعلان کردیا




