مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)ہٹیاں بالا قاضی آباد جویریہ ذبیر بخاری قتل کیس،سات نامزد ملزمان کے خلاف گیارہ ماہ بعد 302 کی ایف آئی آر درج کر کے ہائی کورٹ میں پیش کر دی گئی
پولیس کاروائی پر عدالت العالیہ نے اطیمنان کا اظہار کر دیا،جسٹس سردار اعجاز خان نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 302 کی ایف آئی آر درج ہو چکی پولیس تفتیش مکمل کرے ۔
مثتغیث نے بذریعہ کونسل ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کر رکھی تھی جس پر پولیس نے عمل کر دیا ہے اب جنہوں نے پہلے تفتیش میں کوتاہی کی یا خرابی کی ان کے خلاف پراپر فورم سے رجوع کیا جائے مقدمے کی فائل پریس کی دی گئی۔
آج سماعت کے موقع پر اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سمیت ایس پی جہلم ویلی عباس گردیزی تحقیقاتی کمیٹی کے ممبر ڈی ایس پی ہیڈکواٹر مظفرآباد راجہ پرویز حمید اور ایس ایچ او سٹی جہلم ویلی منظر چغتائی پیش ہوئے جبکہ مثتغیث مقدمہ کی جانب سے طاہر عزیز ایڈووکیٹ اور ملزمان کی جانب سے شوکت عزیز ایڈوکیٹ نے پیروی کی ۔
اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے علات مجاز کو پولیس کاروائی سے آگاہ کیا ملزمان کے خلاف 302 کی ایف آئی آر سمیت دیگر ثبوت پیش کئیے اور عدالت کو بتایا کہ تین ملزمان گرفتار ہیں دیگر کی گرفتاری کیلئےکوشش جاری ہے
جبکہ طاہر عزیز ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے پولیس کاروائی سے اتفاق کیا اور عدالت سے درخواست کی کہ جویریہ زبیر بخاری جسے 21نومبر 2024 کو بے دردی سے قتل کیا گیا اسے گیارہ ماہ تک جنہوں نے خودکشی ظاہر کر کے فائل بند کر دی ۔ جنہوں نے پوسٹ مارٹم کیا اور جو سیاسی قوتیں اس میں آڑے آئیں ان کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کئے جائیں ۔۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کس طرح ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی اور چند پولیس افسر اور چند ڈاکٹرز نے ملزمان سے ملکر تحقیقات کو غلط رنگ دیا
جبکہ ملزمان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے شوکت عزیز ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ایس ایچ او پھر جے آئی ٹی اور پھر کرائم برانچ نے تحقیقات کیں جن کے مطابق یہ خود کشی ہے۔۔
نئی تحقیقاتی ٹیم نے زیادتی کی پولیس ان پر بے جا تشدد کر رہی ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی خودکشی کرنا آئی تھی یہ مقدمہ غلط درج ہوا ہے
یاد رہے جویریہ زبیر بخاری کی21 نومبر 2024 اپنے سسرال واقعہ قاضی آباد ہٹیاں بالا موت واقع ہوئی تھی پہلے 17 گھنٹے سسرال کی جانب سے جویریہ کے والدکو مقتولہ کی موت کو طبعی موت بتایا گیا پھر اچانک سے موت کو خود کشی قرار دیا گیا معاملہ مشکوک ہونے پر والد کی درخواست پر پوسٹ مارٹم ہوا
ابتدائی رپورٹ میں بھی موت کو خود کشی ظاہر کیا گیا تھا ایس ایچ اور سٹی جہلم ویلی وقت نوید الحسن نے بھی تفتیش میں موت کو خودکشی قرار دیا جے آئی ٹی اور کرائم برانچ نے بھی تین وائس نوٹس اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی رو سے موت کو خود کشی کی قرار دیا ۔۔
مئی 2025 کو فائل داخل دفتر کر کے رپورٹ آئی جی پی کو ارسال کر دی گئی معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں آنے پر انہوں نے آئی جی پی کو دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا۔۔
جس پر آئی جی پی نے پولیس کی جانب سے مئی میں بھیجی گئی رپورٹ پر عدم اعتماد کر کے 18 اگست 2025 کو دوبارہ دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس میں ایس پی ہٹیاں بالا سید عباس گردیزی اور ڈی ایس پی ہیڈکواٹرمظفرآباد راجہ پرویز حمید شامل تھے جبکہ معاونت کے لئیے ایس ایچ او سٹی ہٹیاں منظر چغتائی کو بھی رکھا گیا تھا
دوبارہ موقع ملاحظہ اور بیانات کے بعد پولیس کی درخواست پر اعلی سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی میڈیکل کالج مظفرآباد کے شعبہ فرانزک میڈیسن کے ہیڈ ڈاکٹر فصی الزمان نے کی تفصیلی معائنہ پوسٹ مارٹم کے دوران کئیے گئے ایکسرے بنائی گئی تصاویر اور دیگر مواد کے معائنہ کے بعد چار رکنی بورڈ نے موت کو قتل قرار دیا
جبکہ پولیس نے اس سےقبل ہی آئی جی پی کو بھی تفصیلی رپورٹ ارسال کی جس کے بعد انہوں نے بھی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کاروائی کا حکم دیا
پولیس نے مقدمہ درج کر کے جویریہ کے خاوند عاقب منیر اور اس کے دو دیور لبید منیر اور کامران منیر کو حراست میں لے لیا جبکہ تین خواتین سمیت چار مرد بھی مقدمے میں نامزد کئے گئے ہیں چار ملزمان. روپوش ہیں جن کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے مار رہی ہے جلد مزید گرفتاریوں سمیت سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:ون ڈے انٹرنیشنل سیریز :شاہین شاہ آفریدی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان مقرر




