دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا موقف تسلیم،بھارت کو سب سے بڑی مایوسی

دوحہ : قطر میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کے نتیجے میں سیز فائر معاہدے کی سب سے زیادہ مایوسی بھارت کو ہوئی۔

قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں دونوں ملکوں کے مابین طے پانے والا سیز فائر معاہدہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم مطالبہ مان لیا گیا، مذاکرات میں افغان سر زمین سے دہشت گردی بند کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان نے پوزیشن آف اسٹرینتھ سے مذاکرات کر کے معاہدہ کیا، افواجِ پاکستان کے زمینی اقدامات کے بعد افغان فریق پیچھے ہٹا۔

یہ بھی پڑھین: دوحہ مذاکرات میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی،پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی پر اتفاق

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کو چہرہ بچانے کا موقع مل گیا، مذاکرات کی تفصیلات عوام سے پوشیدہ رکھی گئیں، یہ معاہدہ دراصل پاکستان کے جائز مطالبات کی مکمل جیت ہے۔

25اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے وفود کی دوبارہ ملاقات طے کی گئی ہے۔

پاک افغان مذاکرات میں پاکستانی مؤقف کو تسلیم کیا گیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فوری طور پر بند ہوگا، معاہدے سے سب سے زیادہ مایوسی بھارت کو ہوئی جس کی سازشیں ناکام ہوگئیں۔

Scroll to Top