ہٹیاں بالا (عمر بھٹی راجپوت)پاور ہاؤس کھٹائی پر تعینات ذمہ داران کی من مانیاں،سات یونین کونسلوں کے کاروباری مرکز چناری سمیت درجنوں ملحقہ علاقوں میں دس سے بیس منٹ بجلی فراہمی کے بعد کئی کئی گھنٹے اور پوری پوری رات بندش روزانہ کا معمول بنا لیا۔۔
عوام شدید مشکلات سے دوچار،حکام نے متبادل انتظام کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کر لی،محکمہ برقیات تیس کروڑ مالیتی 26 میگا واٹ خراب ٹرانسفارمر کی جگہ نیا ٹرانسفارمر گرڈ سٹیشن ہٹیاں بالا پر تنصیب کے لیے واپڈا سے منگوانے میں ناکام۔۔۔۔
تفصیلات کے مطابق پانی کی کمی،محکمہ پی ڈی او کی مجرمانہ غفلت پاور ہاؤس کھٹائی کی خراب مشینری کے ساتھ ساتھ تعینات عملہ کی من مانیاں جاری،سات یونین کونسلوں کے کاروباری مرکز چناری سمیت ملحقہ درجنوں علاقوں میں دس سے بیس منٹ بجلی فراہمی کے بعد دن کے اوقات میں کئی کئی گھنٹے اور پوری پوری رات بندش سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہو گیا،۔۔۔
کاروبار زندگی معطل،طالب علم بجلی نہ ہونے کے باعث امتحانات کی تیاریوں کے بغیر امتحان دینے لگے،دوسری طرف حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے گرڈ سٹیشن ہٹیاں بالا پر نصب کرنے کے لیے واپڈا سے خریدا گئے گزشتہ سال تیس کروڑ مالیت کے 26 میگاواٹ خراب ٹرانسفارمر کی جگہ محکمہ برقیات آزاد کشمیر ایک ماہ سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود متبادل ٹرانسفارمر منگوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا
،زرائع کے مطابق واپڈا رواں ماہ کی 28 تاریخ کو وآپس بھیجے گئے خراب ٹرانسفارمر کی مرمتی کے بعد ہٹیاں بالا پہنچائے گا۔۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے ٹرانسفارمر کے لیے تیس کروڑ روپے ادا کیے ہیں مرمت شدہ ٹرانسفارمر کیوں محکمہ برقیات لینے پر رضا مند ہوا ہے؟گرڈ سٹیشن پر نیا ٹرانسفارمر نصب کیا جائے جس کے لیے تیس کروڑ روپے دیے گئے ہیں،
اب اگر واپڈا،پیل کمپنی 28 فروری کو ہی ہٹیاں بالا ٹرانسفارمر پہنچاتی ہے تو اس کی تنصیب میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں جس کے باعث عوام کو پہلے تین سے چار روزے بغیر بجلی کے گذارنا ہوں گے،عوامی حلقوں نے رمضان المبارک سے قبل قبل ٹرانسفارمر کو ہٹیاں بالا پہنچانے اور اس کی تنصیب یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے




