کوٹے کا خاتمہ، اپیلیں سپریم کورٹ آزادکشمیر میں سماعت22اکتوبرکو سماعت کیلئے مقرر

مظفرآباد: سرکاری ملازمتوں اور داخلوں میں کوٹہ کے ختم کرنے کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کیخلاف مہاجرین 1947 مقیم پاکستان اور اضلاع کی جانب سے دو الگ الگ اپیل ہا سپریم کورٹ میں 22 اکتوبر کو سماعت کیلئے مقررکردی گئیں۔

معروف قانون دان صاحبزادہ محمود احمد ایڈووکیٹ نے مقدمہ عنوانی شجاعت شبیر بنام راجہ امجد علی خان میں موقف اختیار کیا ہے کہ کوٹہ کے خاتمہ سے قبل ریاست میں یکساں نظام تعلیم لاگو کرنا ضروری ہے۔

اپیل میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اضلاع کا میرٹ ضلعی کوٹہ نہیں ہے بلکہ ضلعی تقسیم کار ہے، کوٹہ صرف معذوروں اور مہاجرین کیلئے مختص ہے لہٰذا اضلاع کی ملازمتوں اور داخلوں میں پہلے سے رائج نظام کو بحال رکھا جائے

یہ بھی پڑھیں: مہاجرینِ کشمیر کا کوٹہ ختم کرنا ظالمانہ اور ناقابلِ قبول ہے: سید صلاح الدین

اپیل پر 22 اکتوبر کو عدالت میں سماعت کیلئے منظور ہونے یا نہ ہونے کی نسبت بحث پیش کی جائے گی۔

معروف قانون دان چوہدری محمد کلیم لطیف نے محمد اویس ساکنہ جھنگ سمیت 63 پٹیشنرز کی جانب سے جبکہ راجہ شفیق اللہ خان /آزاد حکومت کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے آفیسران مجموعی طور پر 89 مسؤلان کے خلاف اپیل دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملازمتوں اور داخلوں کیلئے مہاجرین 1947ء مقیم پاکستان کا کوٹہ ختم کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہٰذا کوٹہ بحال کیا جائے۔

Scroll to Top