مظفرآباد( کشمیر ڈیجیٹل)وزیر اطلاعات آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر پیر محمد مظہر سعید شاہ کی گلوبل صمود فلوٹیلا سے واپسی پر فلوٹیلا میں انکے ہمراہ شریک پاکستانی وفد کے اراکین ڈاکٹر محمد اسامہ ، عزیر نظامی، محمد اسماعیل خان کے ہمراہ سینٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس۔
وزیر اطلاعات پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہاکہ گلوبل صمود فلوٹیلا کا مقصد غزہ کے حصار توڑنا، نہتے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنا، انسانی امداد کو اہل غزہ تک پہنچا کر انسانی امداد کی راہداری کو بحال کرنا اور صیہونیت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا تھا۔ جب یورپی یونین ناکام ہو گئی تو گلوبل صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے حصار توڑنا ہے۔
اللہ رب العزت نے گلوبل صمود فلوٹیلا سے ابراہیم علیہ السلام کی چڑیا کی طرز کے کردار کا کام لیا ہے۔ اہل غزہ 75 سال سے صہیونی مظالم کا شکار ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کا غم اور دکھ ایک ہے۔
گلوبل صمود قافلے کیوجہ سے پوری دنیا میں شعور اور بیداری پیدا ہوئی۔ اس امداد کے بعد 6 ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا۔ صمود فلوٹیلا قافلے کے شرکاء کو کشمیر کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔
دنیا کے انسانی حقوق کے کارکنان نے کشمیر آنے کا بھی وعدہ بھی کیا۔ غزہ کی طرح مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ بھی توڑیں گے، فلوٹیلاکی طرز پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر ان لوگوں کی مدد سے تحریک چلانی ہے۔
خوش ہیں کہ ایک پائی برابر ہی سہی لیکن اللہ نے ہم سے کام لیا۔ میڈیا سے اپیل ہے کہ فلوٹیلا میں شریک انسانی حقوق کے کارکنان جب یہاں آئیں تو بلاتفریق انکا استقبال کیا جائے۔ بنیان المرصوص پاکستان کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی کامیابی ہے۔
پیر محمد مظہر سعید شاہ نے کہا کہ آزادکشمیر میں قیمتی جانوں کے نقصان پر انتہائی رنجیدہ ہوں۔ آزادکشمیر میں صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان کی حکومت اور اداروں نے جو فیصلے کیے اس پر دلی خوشی ہے، سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ ایسے حالات دوبارہ نہ پیدا ہوں۔
انہوں نےکہا کہ خواہش ہے کہ امت کا اتحاد ہو۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا چار پارٹس کے مجموعے کا نام تھا جس میں سپین سے فریڈم صمود فلوٹیلا، جی سی سی فلوٹیلا جس میں عرب ممالک کے لوگ شامل تھے،
قافلہ استقامت مغربی میں ساوتھ افریقہ کے اراکین بشمول نیلسن مینڈیلا کے پوتے کے شامل تھے اور صمود موسانترا جس کو ملائیشیا کے وزیراعظم سپورٹ کررہے تھے جس میں ایشیا کے لوگ ہم سب شامل تھے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی عالمی قافلہ استقامت میں کل رضاکار 500 تھے۔ اس قافلے میں 44 ممالک کے لوگ تھے جن میں 60 فیصد غیر مسلم تھے، قافلے میں خوراک اور ادویات شامل تھیں کوئی ممنوعہ چیز نہیں شامل تھی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک ڈاکٹر اسامہ نے کہا کہ دوران سفر جہاں فلسطین کا جھنڈا رکھا وہاں کشمیر کا جھنڈا بھی ساتھ رکھا۔
45 ممالک کے اراکین سے پیر محمد مظہر سعید شاہ نے وعدہ لیا کہ یہاں بھی آئیں گے اور جس طرح صہیونی ریاست کا قبضہ چھڑوایا ہے اسی طرح ہندوستان کا مقبوضہ کشمیر سے قبضہ ختم کروائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیر محمد مظہر سعید شاہ نے دوران سفر کھانا بھی پکایا اور برتن بھی دھوئے ایک وزیر ہوتے ہوئے ایسا عمل ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا میں شریک عزیر نظامی نے کہا کہ کشمیری عوام استقامت اور جرات کی مثال ہیں۔ کشمیری عوام کی محبت دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ پیر محمد مظہر سعید شاہ کا ایک وزیر ہو کر اس طرح کا جذبہ قابل ستائش ہے۔ یہ کشمیری عوام کے لیے بڑی نعمت ہیں، یہ پورئ امت کے لیے کام کررہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ فلسطینی اور کشمیری عوام دھائیوں سے مظالم کا سامنا کررہے ہیں، بھارت اور اسرائیل نے کشمیریوں اور فلسطینیوں پر بدترین مظالم کی تاریخ رقم کی ہے۔ کشمیری عوام کو انکا حق خود ارادیت ملنا چاہیے۔ جب غزہ کے قریب تو تھے تو بھارت کا ایک جہاز بھی ہمیں روکنے کیلئے وہاں موجود ہے۔ جب بھی انسانی حقوق کی فراہمی یا بحالی کی بات کی جاتی ہے تو صہیونی اور انڈین لابی اسکے خلاف کھڑی ہوجاتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار عبدالقیوم نیازی،خواجہ فاروق احمد ملاقات، عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم




