اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگرافغانستان سےفتنہ الخوارج پاک سرزمین میں آکر خون بہائے،اس خون کاحساب لینے کیلئے اگر افغان سرزمین میں داخل ہونا پڑے تووہ ہمارا حق ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل ضمانت نہیں دے سکا کہ انکی سرزمین ہمارے خلاف بھارت نواز فتنہ استعمال نہیں کرے گا، ہماری مٹی کے تقدس کو پامال ہونے نہ دیں،ہم بھی آپکی زمین پہ آنچ نہ آنےدیں گے۔
قبل ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت شاید اب افغانستان کے ذریعے بدلے کی کوشش کررہا ہے، افغانستان میں بھارت کی سہولت کاری کی جارہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کی بات سے کسی کو انکار نہیں، مذاکرات سے کوئی حل نکل بھی آئے تو اس کی ضمانت کون دے گا؟انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نہ بننے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانوں کی مہمان نوازی کی قیمت اپنے خون سے اداکر رہے، وقت آگیا کہ یہ واپس جائیں،خواجہ آصف
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اتنے پیسے دیں ہم انہیں دوسری جگہ بسا دیں گے لیکن ہمیں خدشہ تھا کہ یہ پیسہ لے لیں گے اور دہشتگرد واپس اپنی پناہ گاہوں میں آجائیں گے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن افغان حکومت ضمانت لینے پر تیار نہیں، کالعدم طالبان کے لیڈر کو وہاں بلٹ پروف گاڑی دی گئی۔
دہشتگردوں کی سہولت کاری کی جارہی ہے کہ وہ نئی پناہ گاہیں بنائیں، ہم نے کابل میں کہا کہ اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کو کنٹرول کریں۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر مجبور نہیں، افغان وزیرخارجہ دہلی میں بیٹھ کر بیان دے رہے ہیں کیا یہ بھارت کی اجازت سے مذاکرات کریں گے؟ افغان حکومت سے بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ اسکور سیٹل ہوگا اور ضرور ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نےدوبارہ کوئی حرکت کی تو پہلے سے زیادہ رسوائی ہوگی، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ 2014 میں پی ٹی آئی آن بورڈ تھی، سب متفق تھے اس لیےعمل کامیاب ہوا امن ہوا جس کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا یہ پاکستان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، مذاکرات کی مخالفت نہیں کررہا مگر مذاکرات میں کوئی فریق گارنٹی دینے پر تیار نہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ بنیان مرصوص میں بھارت کا جو حشر ہوا ہے وہ بدلے کی کوشش کررہا ہے، بھارت شاید اب افغانستان کے ذریعے بدلے کی کوشش کررہا ہے، افغانستان میں بھارت کی سہولت کاری کی جارہی ہے۔




