مشتاق بٹ

مشتاق بٹ نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بڑا مطالبہ کر دیا

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے پریس کے نام ایک بیان میں کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگی جنون پر مبنی بیانات اور جارحانہ طرزِ عمل ایک خطرناک روش کی عکاسی کرتے ہیں جو خطے کو غیر ضروری کشیدگی اور ممکنہ تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ یہ رویہ نہ صرف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ ذمہ دار ریاست کے شایانِ شان بھی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے جو ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی پاسداری کرتا رہا ہے، لیکن بھارت کی اشتعال انگیزی اور عسکری برتری کے جنون سے خطہ ایک ممکنہ بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات عالمی امن و معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے عالمی اداروں، بالخصوص اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل پر لازم ہے کہ وہ بھارتی قیادت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیں ۔

سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے توجہ دلائی کہ لداخ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ نہتے شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال، ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریاں اور اجتماعی سزائیں بھارت کے جمہوری دعوؤں کی نفی کرتے ہیں ۔ یہ مظالم اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ علاقے پر فوجی جبر اور فسطائی پالیسی کے ذریعے اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افضل گورو ریاست جموں و کشمیر کا قابل فخر سپوت تھا : مشتاق بٹ

بیان میں کہا گیا کہ بھارت اپنے داخلی سیاسی مسائل اور انتہا پسند ایجنڈے کو چھپانے کے لیے خطے میں کشیدگی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنوبی ایشیا کے امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل پر ہے، جو صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ممکن ہے ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور جارحانہ پالیسیوں پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلوانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں ۔ خطے کا امن اسی وقت یقینی بنایا جا سکتا ہے جب بھارت اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھائے ۔

Scroll to Top