نئی دہلی: بھارتی چیف جسٹس بی آر گوائی نے گزشتہ روز دن کا پہلا مقدمہ سننا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک ایک بزرگ وکیل نے نعرے بازی شروع کر دی اور اِس کے بعد اِن پر جوتے دے مارا۔
چیف جسٹس گوائی نے واقعے پر غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ”مجھ پر ایسے حملوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا“ جس کے بعد چیف جسٹس بی آر گوائی نے عدالتی کارروائی معمول کے مطابق جاری رکھی۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب چیف جسٹس گوائی حالیہ دنوں میں اپنے ایک بیان پر شدید سوشل میڈیا تنقید کی زد میں آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع
انہوں نے گزشتہ ہفتے خجوراہو میں ہندو دیوتا وشنو کے کٹے ہوئے سر والے 7 فٹ لمبے مجسمے کی دوبارہ تعمیر سے متعلق ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا جا کر دیوتا سے خود کہو کہ وہ خود یہ مسئلہ حل کرے۔
چیف جسٹس کے اس ریمارک پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور ان پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کیا گیابعد ازاں انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ میرے جملوں کو سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔
دریں اثنا ء بھارتی چیف جسٹس کو کمرہ عدالت میں جوتا مارنے والے وکیل کو رہا کر دیا گیا۔جسٹس بی آر گوائی نے وکیل کے خلاف کارروائی کرنےسے انکار کیا تھا۔




