اسلام آباد:آزادکشمیر گئےاسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کئے گئے سلوک کی داستان سنادی۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیر علاج پولیس اہلکاروں کا کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ہم آزادکشمیر کے علاقے چکسواری پلاک گئے تھے جہاں ایکشن کمیٹی کے کارندوں نے حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی دہشتگرد تنظیم ہے، ان لوگوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ایسا ظلم بھارت میں بھی مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن ہماری رہائش گاہ پر آئے اور ہمارا سامان جلا دیا، انہوں نے ہمیں بہت مارا اور ہمارے افسران پر بھی تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی کے پرتشددمظاہروں میں6سویلیں،3پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، حکومت
ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ہم پر پتھروں سے حملہ کیا اور ہمیں یرغمال بنایا، وہ 10 سے 20 ہزار کے قریب افراد تھے، پولیس سے اسلحہ بھی چھین لیا اور ہم پر فائرنگ کی۔
ایک اہلکار نے انکشاف کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے پاس 9MM اور 30 بور پستول تھے۔ میرا یونیفارم پھاڑ دیا اور جس ایمبولنس پر مجھے لے کر جارہے تھے اسے بھی توڑ دیا۔
انہوں نے ہمیں تلاشی لی، ہمارے پاس کوئی اسلحہ موجود نہیں تھا۔اس کے باوجود انہوں نے ہمیں مارنا شروع کر دیاپھر ہم اپنی رہائش پر گئے تو وہ وہاں بھی آ گئے اور تشدد کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم انوارالحق کی عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت
ایک اور اہلکار نے بیایا کہ ہم پہاڑی پر اپنی ڈیوٹی پر بیٹھے تھے کہ لوگ وہاں آ گئی اور ہمارے بندوں کو پکڑ پکڑ کر نیچے پھینکا اور مارا ۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے اس کے باوجود انہوں نے مارا۔




