اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے اس معاملہ پر میری سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی
ہم کشمیر گئے اور وہاں جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیئے۔اپنے کیریئرکے سب سے لمبے مذاکرات جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیساتھ کئے
عوامی مسائل حل کیلئے ساری رات بیٹھ کر مذاکرات کرنا پرے، جو مطالبات ماننے چاہیے انہیں تسلیم کرتے ہیں،کشمیر کاز میں ایک بار پھر سے جان میں جان آئی ہے
ہماری کوشش ہے کہ امن برقرار رہے اور عوام کے مطالبات مانے جائیں ،کشمیری عوام کو گندم اور آٹا سستا فراہم پر ترجیح دی ۔۔آزاد جموں کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے رٹ قائم کرے
کشمیری عوام کی دل سے عزت کرتے ہیں۔کشمیری عوام نے 38 نئے مطالبات متعارف کروائے سارے مطالبات بیٹھ کر تسلی سے سنے ہیں
کشمیر کی اسمبلی میں 12 مہاجروں کی نشستیں ختم ہونی چاہیے اس کا مقصد کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔ہم سارے وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مطالبات مانتے ہیں
ہم کشمیری کاز سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔۔لاک ڈاؤن، ٹریفک بند ہونے سے نقصان بھی کشمیریوں کا ہی ہورہا ہے
بھارتی چینلز منفی پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ہم آج بھی ڈائیلاگ اور بات چیت سے مسئلہ حل کرانے پر یقین رکھتے ہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو وائی فائی سٹی بنانے کا فیصلہ




