مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) مرکزی رہنماپاکستان تحریک انصاف و اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت دونوں سے اپیل کی کہ وہ دونوں تحمل،برداشت،سمجھداری ،تدبر کا مظاہرہ کریں
خواجہ فارو ق احمد کا کہنا تھا کہ ریاست اس وقت کسی بڑے ٹکرائو کی متحمل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ہمیں بھارت جیسے ازلی دشمن کو پروپیگنڈہ کرنے کا عالمی سطح پر کوئی موقع دینا چاہیے۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے کہا کہ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’یک زراہ بگیر دیگرے رادعوئی‘‘ پر عمل کرتے ہوئے جو مطالبات 36 حکومت نے منظور کرلئے ہیں ان کا نوٹیفکیشن حکومت کو جاری کردینا چاہیے اور مہاجرین کی نشستوں کا جو معاملہ ہے اس پر جملہ سیاسی پارلیمانی جماعتوں اور با ر ایسوسی ایشنز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے
کمیٹی اس مطالبہ کے سیاسی بالخصوص مسئلہ کشمیر کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے تب تک عوامی ایکشن کمیٹی کو اس مطالبہ کو موخر کر کے ریاست کو کسی بڑے خون خرابہ سے بچانا چاہیے۔
خواجہ فاروق احمد نے حکومت کے ذمہ داران سے بھی توقع کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ حالات کو بگڑنے نہ دیا جائے ،
جلتی پر تیل نہ ڈالا جائے،ریاستی قوت کا مظاہرہ کر کے عوام کو طیش نہ دلایا جائے،دو چار حساس مقامات بلڈنگز کے علاوہ فورسز ؍پولیس کو سامنے نہ لایا جائے کہ دونوں اطراف سے کوئی بھی غیر ذمہ دار پتھرائو کر کے صورتحال کو مزید خراب کرسکتاہے۔۔
اگر عوامی ایکشن کمیٹی پرامن احتجاج ،شٹر ڈائون کرنا چاہتی ہے تو اسے لمبے عرصہ کے لیے جاری رکھنا ایک دیہاڑی دار مزدور کی روٹی روزی کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
انہوں نے آزادکشمیر کی بار ایسوسی ایشنز کے صدور،ریاستی جماعتوں،سول سوسائٹی کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اس نازک صورتحال کے پیش نظر آگے بڑھیں۔۔
ایک بار پھر دونوں فریقین کو مذاکرات کی ٹیبل پر بٹھائیں،وزراء کی جانب سے بیانات کا سلسلہ بند کرائیں اور وقت کا ضیاع کیے بغیر صورتحال کو کنٹرول میں لانے کیلئے دونوں فریقین انتہائی ذمہ داری ،بردباری،سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے ریاست کو اس خطرناک صورتحال سے باہر نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کہ کسی بھی بڑے ممکنہ نقصان کی پھر تلافی نہ ہوسکے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ فائنل : پاک بھارت کپتانوں کا ٹرافی کیساتھ ’فوٹو شوٹ‘ کھٹائی میں پڑگیا




