جنیوا: بھارتی جبری قبضے کیخلاف ہزاروں کشمیری نکل آئے، اقوام متحدہ دفتر کے باہر شدید احتجاج

جنیوا (کشمیر ڈیجیٹل)کشمیری وفد نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھارت کے غیرقانونی قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے جاری منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

وفد کے ارکان کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب کیا۔

مقررین نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین سیاسی و انسانی حقوق کی صورتحال کو اجاگر کیا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ مزید خونریزی روکی جا سکے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

قیدیوں کی حالتِ زار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 سے قبل اور بعد میں گرفتار کیے گئے ہزاروں کشمیری آج بھی اپنے گھروں سے دور جیلوں میں بند ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں جو تہاڑ اور دیگر بدنامِ زمانہ جیلوں میں قید ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام عرصہ دراز سے سخت قوانین کے تحت من مانے انداز میں گرفتاریاں کرتے آ رہے ہیں اور اسے کشمیری سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے اراکین، صحافیوں، وکلاء اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دبانے کیلئے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقررین نے تمام غیر قانونی طور پر قید رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی آمرانہ پالیسیوں کا خاتمہ کرے، جن میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں بھی شامل ہیں تاکہ ریاست کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کیا جا سکے۔

انہوں نے پہلگام واقعے کے بعد بڑھتے ہوئے جبر پر بھی شدید تشویش ظاہر کی، جب ہزاروں شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کو بغاوت کے قوانین کے تحت گرفتار کر کے وادی سے باہر جیلوں میں منتقل کیا گیا۔

بھارتی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک درجن سے زائد سیاسی جماعتوں پر عائد کُل جماعتی پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ آمرانہ اقدام کشمیر میں سیاسی اور جمہوری اختلاف رائے کو دبانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔

مقررین نے بھارت کی سامراجی موجودگی کو خطے کے امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی، سابق وزیر آزاد کشمیر چوہدری پرویز اشرف، کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR) کے چیئرمین الطاف حسین وانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار امجد یوسف، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، ڈاکٹر راجہ سجاد، محترمہ شمیم شاول، ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر، ڈاکٹر شگفتہ اشرف، مرزا آصف جرال، علی رضا سید اور دیگر شامل تھے۔

اسی دوران کشمیری وفد نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر ایک ثقافتی نمائش بھی منعقد کی، جس میں کشمیری فن اور دستکاری کی اشیاء کی نمائش کی گئیں جنہیں بھارتی قبضے کے تحت شدید وجودی خطرات لاحق ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق ،سردار تنویر الیاس خان کا 21 ستمبر کو راولاکوٹ میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان

Scroll to Top